چیف منسٹر نے تلنگانہ بجٹ کی تیاریوں کا آغازکردیا

   

وزیر فینانس اور محکمہ فینانس کے عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس
حیدرآباد۔27۔ڈسمبر(سیاست نیوز) چیف منسٹر تلنگانہ اے ریونت ریڈی نے ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ و فینانس منسٹر مسٹر ملو بھٹی وکرمارک کے ہمراہ محکمہ فینانس کے عہدیداروں کے ہمراہ بجٹ کی تیاری کے لئے جائزہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے ریاست کو درپیش معاشی چیالنجس سے نمٹنے کی حکمت عملی پر غور و خوص کیا۔ بجٹ 2024-25 کی تیاری کے سلسلہ میں چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کے جائزہ اجلاس کے دوران عہدیداروں نے انہیں ریاست کی معاشی صورتحال کے متعلق واقف کروایا اور انہیں حقیقی اعداد و شمار‘ ریاست کو درپیش چیالنجس کے علاوہ معاشی مشکلات سے نمٹنے کے طریقہ کار کے متعلق واقف کروایا۔چیف منسٹر نے عہدیدارو ںکو ہدایت دی کہ وہ آئندہ بجٹ میں ریاست کی آمدنی اور قرض کے علاوہ اداشدنی بقایا جات کے حقیقی اعداد و شمار پیش کریں تاکہ عوام کو بھی اس بات کا پتہ چل جائے کہ تلنگانہ کی حقیقی معاشی حالت کیا ہے۔ انہوں نے غیر ضروری اسراف کو بجٹ میں جگہ نہ دیں۔ ذرائع کے مطابق تلنگانہ کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کے سلسلہ میں منصوبہ بندی کرنے کی چیف منسٹر نے عہدیداروں کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ریاست کو قرض کے بوجھ سے نجات دلانے کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے حکومت کو پیش کریں تاکہ ریاست کو معاشی طور پر مستحکم بنانے کے اقدامات کئے جاسکیں اور آئندہ بجٹ میں ریاست کی معیشت میں بہتری لانے کے اقدامات کئے جاسکیں۔ عہدیداروں کے مطابق حکومت کی جانب سے اختیار کردہ پالیسی اور معاشی حالت کو بہتر بنانے کے منصوبہ کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتاہے کہ ریاستی حکومت آئندہ بجٹ کے لئے ابھی سے تیاریوں کا آغاز کرتے ہوئے حالات کو بہتر بنانے کی سمت کئی اہم قدم اٹھانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔چیف منسٹر نے عہدیداروں کو مشورہ دیا کہ وہ آئندہ بجٹ اس طرح تیار کریں کہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل ابھی ہوئی ہے۔ انہوں نے محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کے عہدیدارو ںکو ہدایت دی کہ وہ غیر ضروری سرکاری تشہیر کے اشتہارات پر رقومات ضائع نہ کریں اور ضروری تشہیر سے گریز نہ کریں۔ چیف منسٹر اور ڈپٹی چیف منسٹر نے عہدیداروں کے ہمراہ بجٹ کی تیاری کے جائزہ اجلاس کے دوران فلاح و بہبود پر خصوصی توجہ دینے کا مشورہ دیا اور کہا کہ وہ عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لئے حقیقت پر مبنی بجٹ کی تیاری عمل میں لائیں اور اعداد و شمار سے کھیلتے ہوئے بجٹ تیار کرنے سے گریز کریں۔2