چیف منسٹر کرناٹک کی حیثیت سے ڈی کے شیوکمار کی آج حلف برداری

,

   

کابینہ کی تشکیل کیلئے دہلی میں مشاورت جاری ۔ سدا رامیا کا بھی اہم رول ۔ وزارتی خواہشمند بھی سرگرم

بنگلورو؍نئی دہلی۔ 2 جون (یو این آئی) کرناٹک کے نامزد چیف منسٹر ڈی کے شیوکمار کل اپنے عہدے کا حلف لینے جا رہے ہیں، تاہم سبکدوش چیف منسٹر سدارمیا اب بھی نئی حکومت کی تشکیل کے عمل میں اہم کردار ادا کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کی سرگرم موجودگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کانگریس کی نئی حکومت کی تشکیل میں ان کا اثر و رسوخ بدستور برقرار ہے ۔ حلف برداری تقریب میں صرف ایک دن باقی رہ جانے کے باعث نئی دہلی کرناٹک کی سیاست کا مرکز بن چکا ہے ، جہاں کانگریس کے سینئر رہنما، ممکنہ وزارتی امیدوار اور پارٹی کے اہم حکمتِ عملی ساز اعلیٰ قیادت کے ساتھ آخری مرحلے کی مشاورت میں مصروف ہیں۔ وزارتی عہدوں، ڈپٹی چیف منسٹر منصب اور پارٹی و حکومت میں اہم عہدوں کیلئے غور و خوض کے دوران سدارامیا کی کانگریس صدر ملکارجن کھرگے سے ملاقات کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے ۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اقتدار کی منتقلی کے اس نازک مرحلے میں سدارمیا کی فعال شرکت یہ اشارہ ہے کہ شیوکمار حکومت کے قیام کے باوجود ان کی سیاسی اہمیت کم نہیں ہوئی ۔ اس دوران ایک دلچسپ پیشرفت اس وقت ہوئی جب سدارمیا کو کانگریس قیادت سے ملاقات سے قبل دہلی کے ایک ہوٹل میں مرکزی وزیر ایس جے شنکر سے گفتگو کرتے دیکھا گیا۔ تاہم جب صحافیوں نے ان سے کھرگے سے ملاقات پر سوال کیا تو انہوں نے محتاط انداز میںکہا کہ انہیں اس ملاقات کے موضوعات کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔ ادھر کابینہ کی تشکیل کے عمل میں ایک اور موڑ اس وقت آیا جب یتیندر سدارمیا نے دعویٰ کیا کہ راہول گاندھی نے پہلے انہیں کابینہ میں شامل کرنے کا یقین دلایا تھا۔ اس بیان کے بعد نئی کابینہ کی ممکنہ ساخت اور نئے چہروں کو حکومت میں جگہ ملنے کے امکانات پر قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔ کانگریس رکنِ اسمبلی پریانک کھرگے نے بھی دہلی میں راہول گاندھی سے ملاقات کی، جس کے بعد آئندہ حکومت میں ان کے کردار اور اہم وزارتوں کے حصول سے متعلق چہ مگوئیوں میں اضافہ ہو گیا ہے ۔ذرائع کے مطابق کانگریس قیادت مختلف گروپس اور رہنماؤں کی خواہشات میں توازن قائم رکھنے وزارتی تقرریاں مرحلہ وار انجام دے سکتی ہے ، تاکہ پارٹی میںممکنہ اختلافات کو کم کیا جا سکے اور نئی حکومت کو مستحکم بنیادوں پر تشکیل دیا جا سکے ۔