حیدرآباد ۔ 11 جنوری (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی کے خلاف ریمارکس پر برہم کانگریسی کارکنوں نے بی آر ایس کے دفتر پر حملہ کردیا اور توڑپھوڑ مچادی۔ ضلع بھونگیر کے بی آر ایس صدر کے راماکرشنا ریڈی کی جانب سے کئے گئے ریمارک پر کانگریسی کارکن برہم ہوگئے اور پارٹی دفتر پہنچ کر ناراضگی ظاہر کی۔ برہم کانگریسی کارکنوں نے جن میں مقامی قائدین کے علاوہ این ایس یو آئی کیڈر بھی موجود تھا، چیف منسٹر کے خلاف ریمارکس پر برہم ہوگئے اور اسی وقت پارٹی دفتر پر حملہ کردیا جب بی آر ایس کے ضلع صدر ایک پریس کانفرنس کو مخاطب کررہے تھے، کانگریس قائدین و کارکنوں نے بی آر ایس صدر راما کرشنا پر الزام لگایا کہ وہ بے وجہ چیف منسٹر کو نشانہ بنارہے ہیں اور کانگریس قائدین ایسی حرکتوں کو برداشت نہیں کریں گے۔ بی آر ایس پارٹی کی جانب سے اس حملہ کی شدید مذمت کی گئی۔ کانگریس قائدین نے پارٹی دفتر میں توڑپھوڑ مچائی اور فرنیچر کو نقصان پہنچایا اور اس کے بعد احتجاجی دھرنا منظم کیا۔ بی آر ایس قائدین نے اس حملہ پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے حملہ کو پولیس کی ناکامی قرار دیا اور کہا کہ کانگریسیوں کی ہنگامہ آرائی پولیس کی موجودگی میں ہوئی اور ایسا ظاہر ہورہا تھا کہ پولیس کانگریسیوں کی مدد کیلئے آئی تھی۔ بی آر ایس نے اس حملہ کیلئے چیف منسٹر کو موردالزام ٹھہرایا اور کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی کی ناکام قیادت کے سبب ایسے حالات پیش آرہے ہیں۔ کانگریس کی ناکامیوں پر تنقید کانگریسیوں کو برداشت نہیں ہورہی ہے جس کے سبب قائدین اور کارکن تشدد کا راستہ اختیار کررہے ہیں۔ تاہم بی آر ایس عوامی مفاد میں آواز اٹھانے سے نہیں رکے گی اور ایسے حملہ بی آر ایس کو روک نہیں سکتے۔ع