مذہبی ، سیاسی اور سماجی شخصیتیں مدعو، ریاستی وزراء محمود علی اور سرینواس یادو نے انتظامات کا جائزہ لیا
حیدرآباد۔28 ۔ اپریل (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے کل 29 اپریل کو لال بہادر اسٹیڈیم میں دعوت افطار کا اہتمام کیا جارہا ہے جس کی تمام تر تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ چیف منسٹر کی جانب سے ہر سال مسلمانوں کے ساتھ جذبہ خیرسگالی کے طور پر دعوت افطار کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں مسلم ، مذہبی ، سیاسی اور سماجی رہنماؤں کے علاوہ دیگر طبقات کے نمائندے اوراعلیٰ عہدیدار شرکت کرتے ہیں۔ وزیر داخلہ محمد محمود علی اور وزیر اینمل ہسبنڈری سرینواس یادو نے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ لال بہادر اسٹیڈیم کا دورہ کرتے ہوئے انتظامات کا جائزہ لیا۔ وزیر اقلیتی بہبود کے ایشور کو چیف منسٹر کے سی آر کے ہمراہ نلگنڈہ کے دورہ پر جانا پڑا ، لہذا وہ اس موقع پر شریک نہ ہوسکے۔ لال بہادر اسٹیڈیم میں خصوصی مہمانوں کے علاوہ عام وزیٹرس کیلئے علحدہ گوشے بنائے گئے ہیں اور تمام کیلئے افطار اور نماز باجماعت اہتمام کے بعد طعام کا انتظام رہے گا۔ کانگریس پارٹی اور بعض مسلم تنظیموں کی جانب سے دعوت افطار کے بائیکاٹ کی اپیل کے پیش نظر خصوصی حفاظتی انتظامات کئے جارہے ہیں۔ ریاستی وزراء محمد محمود علی اور سرینواس یادو کے ہمراہ سابق صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم، حکومت کے مشیر اے کے خاں، پرنسپل سکریٹری محمد ندیم ، ڈائرکٹر اقلیتی بہبود شاہنواز قاسم، سابق ڈپٹی میئر بابا فصیح الدین اور ٹی آر ایس کے اقلیتی قائدین موجود تھے۔ پولیس کے عہدیداروں نے حفاظتی انتظامات سے واقف کرایا جبکہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے چیف منسٹر کے لئے مخصوص گوشہ کے قیام اور اسٹیج کے انتظامات سے واقف کرایا۔ ریاستی وزراء نے کہا کہ چیف منسٹر نے غریب مسلمانوں کو عید کی خوشیوں میں شامل کرنے کیلئے ریاست کی 900 مساجد میں دعوت افطار اور رمضان گفٹ کی تقسیم کا انتظام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے تمام مذاہب کے عید اور تہوار منائے جاتے ہیں۔ محمد محمود علی نے بائیکاٹ کی اپیل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار سے محرومی کے باعث بوکھلاہٹ کا شکار بعض کانگریس قائدین نے یہ اپیل کی ہے جبکہ علماء اور مشائخین کی جانب سے اس طرح کی کوئی اپیل نہیں کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر ملک میں واحد سیکولر قائد ہیں۔ ہندوستان کے کسی بھی حصہ میں مظالم ہوں تو چیف منسٹر آواز اٹھا رہے ہیں۔ محمود علی نے کہا کہ ہر سال کی طرح علماء اور عوامی نمائندے دعوت افطار میں شریک ہوں گے۔ ر