واشنگٹن ؍ بیجنگ : صدر جو بائیڈن چینی صدر شی جن پنگ سے اس مشتبہ غبارہ کے بارے میں بات کریں گے جسے انہوں نے اس ماہ مار گرانے کا حکم دیا تھا جس کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہوا۔ صدر بائیڈن نے جمعرات کو جاسوسی کرنے والے غبارہ اور ان تین نامعلوم محو پرواز اشیا کے بارے میں، جنہیں انہوں نے گرانے کا حکم دیا تھا، تبصرہ کرتے ہوئے اپنی انتظامیہ کے منصوبوں کو اجاگر کیا۔ صدر نے کہا کہ مجھے توقع ہے صدر شی کے ساتھ اس بارے میں بات چیت ہو گی اور مجھے امید ہے کہ ہم اس کی تہہ تک پہنچ جائیں گے ، لیکن میں اس غبارے کو مار گرائے جانے پر کوئی معذرت نہیں کروں گا۔ صدربائیڈن نے یہ بات ایک ایسے وقت میں کہی ہے کہ جب کہ مار گرائے جانے والے مشتبہ چینی غبارہ کی جانچ پرکھ کی جا رہی ہے اور گرائے گئے باقی تین نامعلوم غباروں کا ملبہ ڈھوندا جا رہا ہے۔ صدر بائیڈن کا کہنا تھا کہ انٹیلی جنس ارکان کا خیال ہے کہ گرائے گئی باقی تین اشیا کا تعلق غالباً پرائیویٹ کمپنیوں، یا تفریحی اداروں یا موسم کا مطالعہ کرنے والے تحقیقی اداروں یا دیگر سائنسی شعبوں سے تھا۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکہ فضا میں نامعلوم اشیاء کی نگرانی، ان کا پیچھا کرنے اور انہیں مار گرانے کے لیے سخت ضابطے بنا رہا ہے۔ صدر نے یہ بات جمعرات کو ایسے میں کہی جب تین ہفتہ سے امریکی فضائی حدود میں جاسوسی کے مشتبہ چینی غبارہ کی موجودگی موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔