چینی کی قلت ‘ قیمتوں میں اضافہ ‘ ایتھینال پالیسی اصل وجہ

,

   

تہواروں سے قبل عوام پر مزید مالی بوجھ ۔ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کی حکومت پر تنقید

نئی دہلی، 22 اگست (یو این آئی) کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن رہنما ملکارجن کھرگے نے تہواروں کے موسم سے قبل ملک میں چینی کی قلت اور قیمتوں میں اضافہ پر مرکزی حکومت پر سخت تنقید کی ۔ انہوں نے چینی کے ذخیرے ، بڑھتی قیمتوں اور ایتھنول کیلئے گنے اور اناج کے استعمال سے متعلق حکومت کی پالیسی پر سوال اٹھائے ۔ایک بیان میں کھرگے نے کہا کہ مودی حکومت کی پالیسیوں کی تلخی نے چینی کی مٹھاس کو پھیکا کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان دنیا کے بڑے چینی پیدا کرنے اور برآمد کنندہ ممالک میں شامل ہے ، اس کے باوجود ملک میں چینی کا ذخیرہ 9 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا اور حکومت کو برآمدات محدود کرنے کے ساتھ 10 لاکھ ٹن چینی ڈیوٹی فری درآمد کرنے کی اجازت دینی پڑی۔ کھرگے نے سوال کیا کہ چینی کی قیمت صرف تین ماہ میں تقریباً 40 فیصد کیوں بڑھ گئی اور تہواروں کے موقع پر مہنگائی کے بوجھ کی ذمہ داری کس کی ہے ۔ ان کے مطابق چینی کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے ، جس سے صارفین پر بوجھ پڑ سکتا ہے ۔انہوں نے ایتھنول بلینڈنگ پالیسی پر بھی سوال کیا اور کہا کہ جب ملک میں چینی کی کمی ہے اور بیرون ملک سے چینی درآمد کی جارہی ہے تو ای-20 پروگرام کیلئے گنے اور اناج کو ایتھنول کی پیداوار کیلئے منتقل کرنے کی پالیسی پر نظر ثانی کیوں نہیں کی جا رہی ۔ حکومت نے پٹرول میں ایتھنول کی ملاوٹ کو خام تیل کی درآمد پر انحصار کم کرنے ، توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے اور زرعی پیداوار کیلئے اضافی منڈی فراہم کرنے کی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا ہے ۔ ای-20 پروگرام کے تحت پٹرول میں 20 فیصد تک ایتھنول ملانے کا ہدف ہے ۔کھرگے نے ان حالات کو حکومت کے ‘آتم نربھر بھارت’ کے تصور پر سوال کیا کہ یہ کیسا آتم نربھر بھارت ہے ؟۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایک جانب چینی کی پیداوار اور ذخائر میں کمی آرہی ہے اور ملک کو چینی درآمد کرنا پڑ رہی ہے ، جبکہ دوسری جانب گنے کو ایتھنول کی پیداوار کیلئے منتقل کیا جارہا ہے ۔کانگریس طویل عرصے سے ایتھنول بلینڈنگ پالیسی کے بعض پہلوؤں کی مخالفت کرتی رہی ہے ۔