وسط مدتی انتخابات کا خطرہ ضرور ہے لیکن میں دوبارہ بھی ایسا کرسکتا ہوں، فاکس نیوز کا صدر امریکہ سے انٹرویو
واشنگٹن ۔ 11 ستمبر (ایجنسیز) نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات پر ممکنہ اثرات کے باوجود مجھے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے پر کوئی افسوس نہیں ہے، صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا۔فاکس نیوز کو ایک انٹرویو میں میزبان لورا انگرام نے ٹرمپ سے پوچھا، کیا آپ کو انتخابات پر اثرات کے پیشِ نظر ایران کے خلاف جنگ پر کوئی افسوس ہے تو انہوں نے کہاکہ “میں ‘افسوس’ کے لفظ پر یقین نہیں رکھتا۔ آپ ہمیشہ خود سے تھوڑا بہت سوال کر سکتے ہیں۔”جمعرات کو نشر کردہ شو “دی انگرام اینگل” (The Ingraham Angle) میں ٹرمپ نے کہاکہ “اگر مجھے یہ سب دوبارہ کرنا پڑتا تو میں بالکل ویسا ہی کرتا جیسا میں نے کیا۔”ٹرمپ نے ان تاثرات کو مسترد کر دیا کہ ان کے بعض حامی اس جنگ کی وجہ سے ناراض یا ان کے حوصلے پست ہو گئے۔ٹرمپ نے کہاکہ “مجھے نہیں لگتا کہ ایسا ہوا ہے۔ میرا خیال میں انہیں اس پر بہت فخر ہے کہ میں ایران کو نیوکلیئر ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے رہا۔”ٹرمپ نے اپنے اس خیال کا اعادہ کیا کہ وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد جنگ ختم ہو جائے گی۔انٹرویو میں ٹرمپ نے کہاکہ “یہ انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو جائے گی۔” انہوں نے چہارشنبہ کو بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار اور الزام عائد کیا تھا کہ تہران انتخابات پر اثرانداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے جن سے یہ طے ہو گا کہ آیا ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھ پائے گی یا نہیں۔ایران کے خلاف جنگ سے تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ انتخابات سے قبل ریپبلکنز کیلئے ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ایران میں اس جنگ کے نتیجہ میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔ٹرمپ نے ایران کی نیوکلیئر صلاحیتوں کو کمزور کرنے کو اپنا ایک جنگی مقصد قرار دیا ہے۔ ایران کے پاس نیوکلیئر ہتھیار نہیں ہیں اور وہ کہتا ہے کہ اس کا یورینیم افزودگی کا پروگرام پْرامن مقاصد کیلئے ہے۔ دوسری جانب امریکہ نیوکلیئر ہتھیاروں کا حامل ملک ہے۔