دوبارہ استعمال کے قابل راکٹ کے بوسٹر کی پہلی بار کامیابی سے زمین پر واپسی
بیجنگ۔ 11 جولائی (ایجنسیز) چین نے خلائی تحقیق کے میدان میں اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے پہلی مرتبہ دوبارہ استعمال کے قابل راکٹ کے پہلے مرحلے یعنی بوسٹر کو کامیابی سے زمین پر واپس اتار لیا ہے، یہ کامیابی خلائی مشنز کی لاگت کم کرنے اور مستقبل میں زیادہ مؤثر خلائی پروگرامز کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔ میڈیا کے مطابق چین نے جنوبی صوبہ ہائنان میں واقع وینچانگ خلائی لانچ مرکز سے لانگ مارچ-10 بی کیریئر راکٹ کامیابی سے روانہ کیا۔ یہ تجربہ چین کے دوبارہ استعمال کے قابل خلائی ٹیکنالوجی پروگرام میں ایک اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ چینی حکام کے مطابق پہلی مرتبہ کسی کیریئر راکٹ کے پہلے مرحلے کی کنٹرولڈ ریکوری کامیابی سے مکمل کی گئی۔ راکٹ کے بوسٹر اور اپر اسٹیج کی علیحدگی کے تقریباً 6 منٹ بعد بوسٹر نے زمین کی جانب واپسی کا سفر شروع کیا اور عمودی انداز میں سمندر میں موجود ایک آف شور پلیٹ فارم پر کامیابی سے لینڈ کر گیا۔ رپورٹس کے مطابق روایتی طور پر راکٹ کے مختلف حصے خلائی پرواز کے دوران ضائع ہو جاتے ہیں، جس کے باعث خلائی مشنز پر آنے والی لاگت میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے،راکٹ کے سب سے قیمتی حصے یعنی بوسٹر کو دوبارہ استعمال کرنے کی صلاحیت حاصل ہونے سے مستقبل میں سیٹلائٹ لانچنگ، خلائی تحقیق اور دیگر مشنز کے اخراجات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ خلائی ماہرین کے مطابق دوبارہ استعمال کے قابل راکٹ ٹیکنالوجی خلائی صنعت کا مستقبل سمجھی جا رہی ہے کیونکہ اس سے کم وقت اور کم لاگت میں زیادہ مشنز انجام دینا ممکن ہو سکے گا۔ چین کی یہ کامیابی اسے عالمی خلائی دوڑ میں مزید مضبوط مقام فراہم کر سکتی ہے۔ واضح رہے کہ دوبارہ استعمال کے قابل راکٹ ٹیکنالوجی میں نجی امریکی کمپنی اسپیس ایکس پہلے ہی نمایاں کامیابیاں حاصل کر چکی ہے۔ اسپیس ایکس نے دسمبر 2015 میں پہلی مرتبہ فالکن 9 راکٹ کو خلائی پرواز کے بعد کامیابی سے زمین پر اتارا تھا۔ سی طرح بلو اوریجن نے نومبر 2025 میں نیو گلین راکٹ کی کامیاب لینڈنگ کرکے دوبارہ استعمال کے قابل راکٹ ٹیکنالوجی میں اہم پیش رفت کی تھی۔ چین کی حالیہ کامیابی بھی اسی عالمی خلائی مقابلہ میں ایک اہم اضافہ قرار دی جا رہی ہے۔