مسلح افواج کوجنگی صلاحیت بڑھانے کی ہدایت، جن پنگ کی مدت میں تیسری بار توسیع متوقع
بیجنگ: چین کی پارلیمنٹ نیشنل پیپلز کانگریس نے اتوار کو اپنا سالانہ اجلاس شروع کر دیا ہے۔ صدر شی جن پنگ نے اس کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی۔ چین نے اس سال اپنے دفاعی بجٹ میں 7.2 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے جو ہندوستان کے دفاعی بجٹ سے تقریباً 3 گنا زیادہ ہے۔ اس کے لیے وہاں کی کمیونسٹ حکومت نے بیرونی چیلنجز کا حوالہ دیا ہے-چین نے رواں سال دفاعی بجٹ کو بڑھا کر سات اعشاریہ دو فیصد تک کرنے کا اعلان کیا ہے جو حکومت کی اقتصادی ترقی کی پیش گوئی سے زیادہ ہے۔ چین نے رواں سال کے لیے معاشی ترقی کا ہدف تقریباً 5 فیصد مقرر کر دیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی جانب سے معاشی ترقی کا مقررہ 5 فیصد ہدف گزشتہ دہائیوں کا کم ترین ہدف ہے۔چینی وزیرِ اعظم نے سالانہ نیشنل پیپلز کانگریس سے خطاب میں اقتصادی ترقی کے ہدف کا اعلان کیاروئٹرز کے مطابق چین کے وزیراعظم لی کیچیانگ نے مسلح افواج سے کہا کہ ’وہ جنگی صلاحیت کو بڑھائیں۔ اجلاس ایک ہفتے تک جاری رہے گا، جس میں چینی حکومت میں بیٹھے وزراء کے تبادلے کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ کئی تقرریاں ہوں گی۔ اطلاعات کے مطابق اس ملاقات میں شی جن پنگ کی مدت ملازمت میں تیسری بار توسیع کی جائے گی۔ جس کی وجہ سے چین میں اس کی طاقت مزید مضبوط ہوگی۔اتوار کو جاری کیے گئے چین کے قومی بجٹ میں فوجی اخراجات کو 1.55 ٹریلین یوآن یا 224 ارب ڈالر تک بڑھانے کی تفصیل دی گئی ہے۔ چین کے پڑوسی ممالک اور واشنگٹن اس بجٹ کو چینی افواج کی جنگ اور جارحانہ پالیسی کے حوالے سے ایک پیمانے کے طور پر دیکھتے ہیں۔رواں سال کیا جانے والا اضافہ دفاعی اخراجات پر خرچ کے حوالے سے غیرمعمولی نہیں اور گزشتہ آٹھ برس کے دوران چین نے اسی رفتار سے فوجی صلاحیت بڑھانے پر رقم لگائی ہے۔ دفاعی اخراجات کے مقابلے میں چین کی سالانہ اقتصادی ترقی کی نمو قدرے کم ہے جو دنیا کی دوسری بڑی معیشت کو درپیش اندرونی چیلنجز کے باعث ہے۔