نئی دہلی، 3 جولائی (یو این آئی) عالمی صحت تنظیم (ڈبلیو ایچ او) نے آج اپنی جرأت مندانہ پہل ’’3 بائی 35‘‘ کا آغاز کیا، جس میں ملکوں سے زور دے کر کہا گیا ہے کہ وہ 2035 تک تمباکو، الکحل اور شکر والے مشروبات پر ٹیکس میں کم از کم 50 فیصد اضافہ کریں۔ اس پہل کا آغازغیر متعدی امراض (این سی ڈیز)جیسے دل کی بیماری، کینسر اور ذیابیطس کے عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے معاملات سے نمٹنے کے لیے کیا گیا ہے ۔ دنیا بھر میں 75 فیصداموات کا سبب یہی بیماریاں بنتی ہیں۔ ڈبلیو ایچ اوکے ہیلتھ پروموشن اینڈ ڈیزیز پریوینشن اینڈ کنٹرول کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر جیریمی فرار نے یہاں ایک بیان میں کہا، ‘‘ہیلتھ ٹیکس ہمارے پاس موجود سب سے موثر ٹولز میں سے ایک ہے ۔اس سے نقصان دہ مصنوعات کی کھپت کم ہوتی ہے اور آمدنی ہوتی ہے جن سے ،حکومتیں حفظانِ صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ میں دوبارہ سرمایہ کاری کر سکتی ہیں۔ یہ کام کرنے کا وقت ہے ۔ این سی ڈیزمیں اضافہ سے عالمی صحت کے نظام پر بہت زیادہ دباؤ پڑا ہے ، جو پہلے ہی کم ترقیاتی امداد اور بڑھتے ہوئے عوامی قرضوں سے دوچار ہے ۔ حالیہ تحقیق میں ایسے اقدامات کی صلاحیت کو اجاگر کیا گیا ہے ۔
اندازوں کے مطابق تمباکو، الکحل اور شکر والے مشروبات کی قیمتوں میں ایک بار 50 فیصد اضافہ سے اگلی پانچ دہائیوں میں 50 ملین قبل از وقت اموات کو روکا جا سکتا ہے ۔