ڈولو650 تجویز کرنے ڈاکٹروں میں مفت تقسیم

   

سپریم کورٹ نے مسئلہ کو سنگین بتا یا‘29ستمبرکو اگلی سماعت
نئی دہلی : سپریم کورٹ کو جمعرات کو بتا یا گیا کہ سنٹرل بورڈ آف ڈائرکٹ ٹیکسیس نے Dolo-650تیار کرنے والوں پر الزام لگایا کہ ان کے ٹیابلیٹ یعنی گولیوں کو تجویز کرنے کیلئے ڈاکٹرس کو تقریباً ایک ہزار کروڑ روپئے کی مفت تقسیم کی گئی ۔ فیڈریشن آف میڈیکل اینڈ سیلز ریپریزنٹیوز اسوی ایسشن آف انڈیا( ایف ایم آر اے آئی) کی طرف سے پیش ہو تے ہوئے ایڈوکیٹ سنجے پاریکھ نے کہا کہ زیادہ منافع کے مارجن کو یقینی بنانے کے لیے، کمپنی کی جانب سے ڈاکٹروں کو 650 ملی گرام کی مقدار کی ڈولو دوائی تجویز کرنے کے لیے فری بیز دیں گئیں۔جسٹس چندر چوڈ نے اس کو سنگین مسئلہ قرار دیا اور کہا کہ جب وہ کووڈ سے متاثر تھے وہی ٹیابلیٹ تجویز کی گئی تھی ۔جسٹس چندر چوڈ نے اس کو سنگین مسئلہ قرار دیا ۔سپریم کورٹ کی بنچ نے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل کے ایم نٹراج سے کہا کہ وہ دس دنوں میں جواب داخل کریں۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ یہ جاننا چاہتی ہے کہ اس مسئلہ پر حکومت کیا کہتی ہے ۔عدالت نے 29ستمبر کو اگلی سماعت کی تاریخ مقرر کی ہے ۔