ڈینگو بخار کا قہر ‘ یو پی سب سے زیادہ متاثر

   

مدھیہ پردیش اور مغربی بنگال بھی کئی افراد متاثر، بنگال میں کئی اموات کی اطلاع
نئی دہلی: کورونا وائرس کی وبا سے لوگوں کا جینا پہلے ہی دوبھر ہوگیا ہے اور اب وائرل بخار کے قہر نے صورتحال کو مزید ابتر کردیا ہے ۔ کئی ریاستوں میں ڈینگو بخار بھی پیر پسار رہا ہے اور اس وبا سے بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہورہے ہیں۔ اتر پردیش سے ڈینگی بخار کے سب سے زیادہ معاملے رپورٹ ہو رہے ہیں۔ پچھلے ہفتوں میں فیروزآباد ضلع میں متعدد افراد کی جان چلی گئی ہے۔ادھر مغربی بنگال میں بھی پْراسرار بخار نے متعدد بچوں کو متاثر کیا ہے اور سینکڑوں افراد کو اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔ وائرل بخار کے ساتھ ہی ڈینگی نے ریاستوں کی پیشانی پر بل ڈال دیئے ہیں اور حالات کو قابو میں کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ملک میں سب سے زیادہ متاثر ریاست اتر پردیش ہے جس کے مختلف اضلاع میں ڈینگی اور وائرل بخار کے 1500 سے زیادہ معاملے ریکارڈ ہوئے ہیں۔ وسطی یوپی، بندیل کھنڈ اور مغربی یوپی کے علاقے بری طرح متاثر نظر آ رہے ہیں۔ فیروز آباد میں تو اب تک 61 افراد کی جان جا چکی ہے۔ آگرہ، غازی آباد اور نوئیڈا میں بھی متعدد افراد متاثر ہوئے ہیں۔مغربی بنگال کے شمالی حصہ میں دو اسپتالوں میں بخار اور دیگر بیماریوں کے سبب 172 بچوں کو داخل کرایا گیا ہے۔ ان میں سے 67 بچوں کو شمالی بنگال میڈیکل کالج اور اسپتال کے شعبہ اطفال میں داخل کرایا گیا ہے جبکہ کئی کو اسپتال سے چھٹی دے دی گئی ہے۔مدھیہ پردیش کے اندور میں ڈینگی بخار کے 22 معاملے رپورٹ ہوئے ہیں، جس میں سے اس سال کل متاثرین کی تعداد 225 ہو گئی ہے۔ ریاست کی راجدھانی بھوپال میں ڈینگی کے 6 تازہ معاملے سامنے آنے کے بعد معاملوں کی مجموعی تعداد جنوری سے اب تک 170 ہو گئی ہے۔دیگر متاثرہ ضلع راج گڑھ میں اب تک 22 معاملے رپورٹ ہوئے ہیں، اس کے علاوہ گوالیار میں 95 اور چمبل میں 15 معاملے درج کئے گئے ہیں۔ وائرل بخار کے معاملے بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور اندور، راج گڑھ، جبل پور اور گوالیار اس سے سب سے زیادہ متاثر نظر آ رہے ہیں۔بنگال میں کئی اموات کی اطلاع بھی ہے ۔