زیورچ: سعودی عرب کی تیل کے علاوہ دیگر اقتصادی سرگرمیاں 2023 میں اس کے جی ڈی پی کے 50 فیصد تک پہنچ گئیں۔ سعودی مملکت کیلئے ایسا پہلی بار ہوا ہے کیونکہ اس نے ابھرتی ہوئی صنعتوں اور ٹیکنالوجیز، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور افرادی قوت کی موافقت کے ذریعہ معیشت کو متنوع بنانے کیلئے اپنی سرمایہ کاری کو وسعت دی ہے۔استحکام کے تحفظ اور مصنوعی ذہانت کے دور میں مضبوط نشوونما کو آگے بڑھانے کیلئے ملک کے کیا منصوبے ہیں؟ ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم سے ’سعودی عرب کی اقتصادی تبدیلیاں‘ کے موضوع پر پینل مباحثہ ہوا۔