ڈیٹنگ ایپس پر جعلی AI خواتین کا خوفناک جال ‘ بلیک میل اور لوٹ مار

   

تلنگانہ میں ایک سال میں 569 افراد شکار ، 2.81 کروڑ روپئے سے محروم ، 61 فیصد نوجوان بنے نشانہ
حیدرآباد 15 ستمبر : ( سیاست نیوز) : آن لائن سائبر کرائم کی دنیامیں مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال نے خطرناک شکل احتیار کرلی ہے ۔ سائبر مجرم اب کسی حقیقی خاتون کی بجائے AI سے تیار ( Deep Fake ) خواتین کے ذریعے معصوم اور ناواقف نوجوانوں کو اپنے جال میں پھنسا کر بلیک میلنگ کا شکار بنا رہے ہیں ۔ سائبر پولیس کی رپورٹ کے مطابق تلنگانہ میں گزشتہ ایک سال میں 569 افراد اس سائبر فراڈ کا شکار بن کر سائبر مجرموں کے ہاتھوں 2.81 کروڑ روپئے گنوا چکے ہے ۔ متاثرین میں 61 فیصد نوجوانوں کی عمر 18 سے 35 سال کے درمیان ہیں ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ صرف وہ اعداد و شمار ہیں جو سامنے آئے ہیں ۔ جبکہ بدنامی اور داغدار ہونے کے ڈر سے کئی متاثرین خاموشی سے اپنا نقصان برداشت کرلیتے ہیں ۔ حیدرآباد میں پیش آئے ایک واقعہ کے مطابق ایک نوجوان انسٹاگرام پر ریل دیکھتے وقت ڈیٹنگ ایپ کے اشتہار پر کلک کربیٹھا ، ڈاؤن لوڈ کرتے ہی اسے ایک ایسی لڑکی کا پیغام آیا جس نے بتایا کہ وہ اس کے اپنے شہر کے ہی ایک مشہور بازار کے پاس رہتی ہے ۔ دونوں میں دوستی ہوئی اور ملاقات کا پلان بنا ۔ لڑکی نے بتائے مقام پر پہونچکر روتی ہوئی آواز میں کال کی کہ اس کا ایک قریبی رشتہ دار ہاسپٹل میں ہے اور اسے فوری 50 ہزار روپئے کی ضرورت ہے ۔ متاثرہ نوجوان نے فوری رقم آن لائن منتقل کردی ۔ دو دن بعد شکر گزاری کا اظہار کرنے کے بہانے اس نوجوان کو ویڈیو کال کی ۔ کال کے دوران اس نے اپنے کپڑے اتار کر نوجوان کو بھی عریاں ہونے پر اکسایا ۔ نوجوان جیسے ہی اس کی باتوں میں آیا دوسری طرف سے اسکرین ریکارڈنگ اور تصاویر لی گئیں ۔ دوسرے دن سے وہی ویڈیوز اس کے دوستوں اور فون رابطوں کو بھیجنے کی دھمکی دے کر صرف ایک ہفتے میں ایک لاکھ روپئے لوٹ لیے گئے ۔ جب متاثرہ نوجوان کی جیب خالی ہوگئی اور اس نے پولیس سے رجوع کیا تو انکشاف ہوا کہ دوسری طرف کوئی حقیقی لڑکی تھی ہی نہیں بلکہ یہ مصنوعی ذہانت سے تیار ایک جعلی ویڈیو تھی ۔ سائبر ماہرین کے مطابق اگر آپ ویڈیو کال کے دوران تھوڑا سا غور کریں تو (AI) سے بنائی گئی جعلی ویڈیو کو آسانی سے پہچانا جاسکتا ہے ۔ اگر ویڈیو چیٹ پر شک ہو تو سامنے والے سے ہاتھ چہرے کے سامنے لاکر آگے پیچھے کرنے یا رخ موڑنے کو کہے ۔ AI ویڈیو کی صورت میں چہرہ دھندلا (Blur) یا بگڑ جائے گا ۔ اس کے علاوہ غیر فطری سانس ، پلکوں اور ہونٹوں کا عدم توازن بھی AI کی نشانیاں ہیں ۔ بلیک میلرس کے آگے جھک کر رقم نہ دیں تمام چیاٹس ، اسکرین شاٹ اور لنکس محفوظ رکھیں اور فوری سائبر ہیلپ لائن 1930 یا cybercrime.gov.in پر شکایت درج کرائیں ۔ انجان و تھرڈ پارٹی APK ایپس سے بچیں ۔ کسی اجنبی کے ساتھ پرسنل تصاویر یا ویڈیو کال شیئر نہ کریں اور کبھی بھی OTP یا UPI Pin ظاہر نہ کریں ۔۔ 2/k/b