درگ: چھتیس گڑھ کے درگ ضلع میں ڈی جے پر رقص کرنے پر دو گروپوں کے درمیان جھگڑے میں تین لوگوں کی موت ہو گئی اور نصف درجن لڑکے زخمی ہو گئے ۔ جائے وقوعہ پر پڑی لکڑیاں، لاٹھیاں، پتھر، ٹوٹی کرسیاں اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ دونوں گروپوں میں لڑائی کس حد تک ہوئی۔پولیس کو اس واقعہ کی اطلاع دی گئی۔ جس کے بعد درگ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے اضافی نفری تعینات کر کے گاؤں نندنی کو چھاؤنی میں تبدیل کر دیا۔ گاؤں والوں نے تھانے پہنچ کر پولیس کے وقت پر نہ پہنچنے پر برہمی کا اظہار کیا۔جمعہ کو ڈی جے پر ڈانس کرنے کے تنازعہ میں یادو محلہ اور شیلتا پاڑہ کے نوجوانوں کے درمیان زبردست لڑائی ہوئی۔ اگلے دن ہفتہ کی صبح، نندنی گاؤں کے بزرگوں نے ایک میٹنگ کی اور دونوں گروپوں سے تنازعہ ختم کرنے کو کہا۔ لیکن گاؤں والوں کے مشورے کو نظر انداز کرتے ہوئے سنیچر کی شام تقریباً آٹھ بجے یادو محلہ کے واسو یادو نے شیتلہ پاڑہ کے آکاش پٹیل کو فون کیا کہ اگر تم میں ہمت ہے تو شیتلہ مندر کے قریب آجانا۔ دھمکی سن کر آکاش وہاں پہنچ گیا۔ یادو محلے کے لڑکوں نے لڑائی شروع کر دی اور آکاش پر چاقو سے حملہ کر دیا۔