ڈی ناگیندر اسمبلی کی رکنیت سے نااہل، تلنگانہ ہائی کورٹ کا سنسنی خیزفیصلہ

,

   

اسپیکر کا فیصلہ کالعدم ، بی آر ایس سے منتخب ہوکر کانگریس کے ٹکٹ پر مقابلہ انحراف کا ثبوت، کوشک ریڈی اور مہیشور ریڈی کی درخواستوں پر چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ کے احکامات ، ضمنی چناؤ کی راہ ہموار
حیدرآباد۔18۔ستمبر (سیاست نیوز) انحراف کے الزامات کا سامنا کرنے والے رکن اسمبلی خیریت آباد ڈی ناگیندر کو آج تلنگانہ ہائی کورٹ نے اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دے دیا۔ چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ اور جسٹس جی ایم محی الدین پر مشتمل بنچ نے آج فیصلہ سناتے ہوئے اسپیکر اسمبلی جی پرساد کمار کے احکامات کو کالعدم کردیا جس میں انہوں نے ناگیندر کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں کو مسترد کردیا تھا۔ چیف جسٹس نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ڈی ناگیندر 23 اپریل 2024 سے اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار پاتے ہیں کیونکہ انہوں نے بی آر ایس کے ٹکٹ پر اسمبلی الیکشن میں کامیابی کے بعد 2024 لوک سبھا چناؤ میں کانگریس کے ٹکٹ پر مقابلہ کیا تھا ۔ عدالت نے ناگیندر کے خلاف دائر کی گئی دو درخواستوں کی سماعت کے بعد 21 اگست کو اپنا فیصلہ محفوظ کردیا تھا۔ بی آر ایس کے رکن اسمبلی پی کوشک ریڈی اور بی جے پی رکن اسمبلی اے مہیشور ریڈی نے 11 مارچ کو تلنگانہ اسپیکر کے احکامات کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں دو علحدہ درخواستیں داخل کی تھیں۔ درخواست گزاروں نے کہا کہ ڈی ناگیندر کو دستور کے دسویں شیڈول کی دفعات کے تحت نااہل قرار دیا جائے جنہوں نے بی آر ایس کے ٹکٹ پر منتخب ہونے کے بعد انحراف کرتے ہوئے کانگریس کے ٹکٹ پر لوک سبھا الیکشن میں حصہ لیا ۔ درخواست گزاروں نے کہا کہ ڈسمبر 2023 میں بی آر ایس ٹکٹ پر منتخب ہونے کے بعد استعفیٰ دیئے بغیر انہوں نے مئی 2024 میں سکندرآباد لوک سبھا حلقہ سے کانگریس کے ٹکٹ پر مقابلہ کیا۔ واضح رہے کہ بی آر ایس سے منتخب جملہ 10 ارکان اسمبلی مارچ تا اگست 2024 انحراف کرتے ہوئے کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی۔ منحرف ارکان میں کڈیم سری ہری (اسٹیشن گھن پور) ، پوچارم سرینواس ریڈی (بانسواڑہ) ، پی وینکٹ راؤ (بھدرا چلم ) ، سنجے کمار (جگتیال)، اے گاندھی (شیر لنگم پلی) ، ٹی پرکاش گوڑ (راجندر نگر ) ، ڈی کرشنا موہن ریڈی (گدوال) ، کے یادیا (چیوڑلہ) ، اور جی مہیپال ریڈی (پٹن چیرو) شامل ہیں۔ اپریل 2024 میں بی آر ایس نے ہائی کورٹ سے رجوع ہوکر شکایت کی تھی کہ اسپیکر کے آفیس کی جانب سے منحرف ارکان کے خلاف دائر کی گئی شکایتوں پر کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے ۔ ہائی کورٹ کے سنگل جج نے 9 ستمبر 2024 کو اسپیکر آفس کو ہدایت دی تھی کہ نااہل قرار دینے کی درخواستوں کی سماعت کیلئے شیڈول طئے کیا جائے ۔ اسپیکر کی جانب سے سنگل جج کے فیصلہ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔ 27 نومبر 2024 کو ہائی کورٹ کے ڈیویژن بنچ نے سنگل جج کے احکامات کو کالعدم کردیا جس کے بعد بی آر ایس اور بی جے پی ارکان سپریم کورٹ سے رجوع ہوئے۔ 31 جولائی 2025 کو سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے ڈیویژن بنچ کے فیصلہ کو کالعدم کردیا اور اسپیکر کو ہدایت دی کہ اندرون تین ماہ منحرف ارکان کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں کی یکسوئی کریں۔ اسپیکر آفس نے 10 منحرف ارکان کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے بعد فیصلہ سنایا اور تمام درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے منحرف ارکان کو کلین چٹ دے دی۔ اسپیکر کے فیصلہ کو بی جے پی اور بی آر ایس نے دوبارہ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ 10 کے منجملہ 9 ارکان اسمبلی کے خلاف درخواست دائر کی گئی۔ بعض وجوہات کے تحت پٹن چیرو کے مہیپال ریڈی کے خلاف درخواست داخل نہیں کی گئی۔ بی جے پی رکن اسمبلی مہیشور ریڈی نے ڈیناگیندر کے خلاف علحدہ پٹیشن دائر کی۔ چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ کی زیر قیادت بنچ نے اس معاملہ کی سماعت کرتے ہوئے 21 اگست کو فیصلہ محفوظ کردیا تھا جو آج سنایا گیا۔ واضح رہے کہ چیف جسٹس کی بنچ پر باقی 8 ارکان اسمبلی کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں کی سماعت جاری ہے۔ بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ نے ہائی کورٹ کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ باقی منحرف ارکان کا حشر بھی ڈی ناگیندر کی طرح ہوگا اور عدالت انہیں نااہل قرار دے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے بعد اسپیکر کے آفس سے الیکشن کمیشن کو اطلاع دی گئی ہے کہ خیریت آباد اسمبلی نشست خالی ہوچکی ہے۔ اسی دوران ڈی ناگیندر نے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے بعد خیریت آباد اسمبلی حلقہ میں ضمنی چناؤ کی راہ ہموار ہوچکی ہے ۔ اگر سپریم کورٹ سے ناگیندر کو کوئی راحت نہ ملے تو ایسی صورت میں ضمنی انتخاب یقینی ہوگا۔ 1/k