لیبر پارٹی کامیاب،کنزرویٹیو پارٹی کا 14 سالہ اقتدار ختم، رشی سونک کو شکست تسلیم
لندن: برطانیہ کے نئے وزیر اعظم کئیر اسٹارمر کا کہنا ہے کہ انہوں نے ملک میں حکومت بنانے کی دعوت قبول کرلی ہے ۔ برطانوی وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کئیر اسٹارمر نے کہا کہ وہ ابھی شاہی محل سے واپس آئے ہیں اور انہوں نے بادشاہ چارلس کی جانب سے ملک میں حکومت بنانے کی دعوت قبول کرلی ہے ۔برطانوی نامزد وزیر اعظم کئیر اسٹارمر نے کہا کہ ہمیں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ، ہمارے ملک نے تبدیلی اور قومی تجدید کیلئے فیصلہ کُن ووٹ دیا ہے ۔برطانوی نئے وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے ، برطانیہ کوایک بارپھر رہنمائی کرنے والا ملک بنائیں گے ۔ان کا کہنا تھا کہ آپ کی حکومت ہر شہری کواحترام کی نگاہ سے دیکھے گی، ہماری حکومت ان سب کیلئے کام کرے گی جنہوں نے ہمیں ووٹ دیا اور جنہوں نے نہیں دیا۔برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ عوام کے اعتماد میں کمی کا ازالہ عملی اقدامات سے کرنے کی ضرورت ہے ۔کئیر اسٹارمر نے اپنی گفتگو میں سابق برطانوی وزیر اعظم رشی سونک کا بھی شکریہ ادا کیا۔برطانیہ میں کنزرویٹو پارٹی کا 14 سالہ دور ختم ہوگیا جہاں قبل ازوقت ہونے والے عام انتخابات میں لیبر پارٹی نے فتح حاصل کرلی ہے جس کے بعد سر کئیر اسٹارمر نئے وزیراعظم بن گئے ہیں۔برطانیہ میں عام انتخابات میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے جہاں 650 میں سے 648 نشستوں کے نتائج سامنے آئے ہیں اور لیبر پارٹی نے اب تک 412 نشستیں حاصل کرلی ہیں۔عام انتخابات میں کنزرویٹو نے 121اور لبرلز نے 71نشستیں حاصل کی ہیں۔ حکومت سازی کیلئے پارلیمنٹ کی 650 نشستوں میں سے 326 نشستیں درکار ہوتی ہیں اور لیبر پارٹی بھاری اکثریت سے کامیاب ہوکر حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئی ہے ۔اس موقع پر برطانوی وزیراعظم رشی سناک نے کہا کہ ہمیں برطانیہ کے مستقبل پر اعتماد ہونا چاہیئے، انتھک کوششوں کے باوجود ہار پر افسوس ہے، انتخابات میں شکست کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔ رشی سناک کا مزید کہنا تھا کہ لیبر پارٹی یہ الیکشن جیت چکی ہے، مبارکباد دیتا ہوں، اس شکست میں سیکھنے کے لیے بہت کچھ ہے۔