تہران ۔ 25 مئی (ایجنسیز) تہران کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمہ کے لیے امریکہ کے ساتھ جاری بالواسطہ بات چیت میں کئی متنازعہ امور پر پیش رفت ہوئی ہے لیکن اتنی زیادہ نہیں کہ اس کے نتیجے میں عنقریب ایک امن معاہدہ طے پا جائے۔ تہران کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمہ کے لیے امریکہ کے ساتھ جاری بالواسطہ بات چیت میں کئی متنازعہ امور پر پیش رفت ہوئی ہے لیکن اتنی زیادہ نہیں کہ اس کے نتیجے میں عنقریب ایک امن معاہدہ طے پا جائے۔ ایرانی دارالحکومت سے پیر 25 مئی کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق ملکی وزارت خارجہ کی طرف سے کہا گیا کہ تہران اور واشنگٹن کے مابین اب تک جتنی بار امن تجاویز کا تبادلہ ہوا ہے، ان کے نتیجے میں کئی معاملات میں فریقین کے مابین مفاہمت ہو گئی ہے، تاہم یہ بات تاحال یقینی نہیں کہ ایک باقاعدہ امن ڈیل عنقریب ہی طے پا جائے گی۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ہفتہ کے روز کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکراتی عمل تقریباً مکمل ہو گیا ہے مگر پھر انہوں نے کہا کہ واشنگٹن تہران کے ساتھ امن ڈیل طے کر لینے میں کوئی جلد بازی نہیں کرے گا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران پیر کے روز کہا کہ اب تک کی مذاکراتی پیش رفت کی روشنی میں یہ کہنا کہ ایک امن معاہدہ پر دستخط عنقریب ہی ہو جائیں گے، ایسا دعویٰ تو ابھی تک کوئی نہیں کر سکتا۔ ساتھ ہی اسماعیل بقائی نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی ایک دستاویز (ایم او یو) کے سلسلے میں کئی امور پر اتفاق رائے تک پہنچا جا چکا ہے، تاہم جنگ کے خاتمہ کے لیے ایران جو مذاکرات کر رہا ہے، ان میں ابھی تک ایرانی نیوکلیر پروگرام سے جڑے معاملات شامل نہیں ہیں۔
بقائی نے مزید کہا کہ امریکہ نے اب تک اس بات چیت میں جو موقف اپنایا ہے، اگر وہ تبدیل ہوا تو امن معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں مشکلات کا شکار ہو جائیں گی۔