کابینہ میں 42 فیصد بی سی تحفظات کے فیصلہ کا بی سی کمیشن نے خیرمقدم کیا

   

بِل کی متفقہ منظوری پر زور، تلنگانہ میں طبقاتی سطح پر سرکاری ملازمین اور طلبہ کی تفصیلات محکمہ جات سے طلب کی گئیں
حیدرآباد 7 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ بی سی کمیشن نے ریاستی کابینہ کے اجلاس میں پسماندہ طبقات کو تعلیم، روزگار اور مجالس مقامی میں 42 فیصد تحفظات کی فراہمی کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا ہے۔ کمیشن کے صدرنشین جی نرنجن نے ارکان کے ہمراہ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریاستی کابینہ کے فیصلوں کا خیرمقدم کیا۔ جی نرنجن نے کہاکہ تلنگانہ حکومت نے 42 فیصد تحفظات کا تاریخی فیصلہ کیا ہے اور اِس فیصلہ سے بی سی طبقہ کے دیرینہ خوابوں کی تکمیل ہوگی۔ تلنگانہ عوام چاہتے ہیں کہ تحفظات میں اضافہ کا بِل اسمبلی میں متفقہ طور پر منظور کیا جائے۔ کمیشن نے اسمبلی میں موجود تمام سیاسی پارٹیوں سے اپیل کی کہ بی سی تحفظات سے متعلق بل کی متفقہ منظوری کی راہ ہموار کریں۔ اُنھوں نے ریاست کی تمام سیاسی پارٹیوں سے بھی بل کی تائید کی اپیل کی۔ جی نرنجن نے کہاکہ 42 فیصد تحفظات پر عمل آوری میں مرکزی حکومت کا اہم رول ہوتا ہے لہذا مرکز کو دستوری ترمیم کے ذریعہ تلنگانہ میں 42 فیصد تحفظات پر عمل آوری کی راہ ہموار کرنی چاہئے۔ نرنجن نے کہاکہ کل جماعتی وفد کے قائدین کو وزیراعظم سے ملاقات کے ذریعہ یہ تاثر دینا چاہئے کہ تلنگانہ کی تمام سیاسی پارٹیاں بی سی طبقات کو تحفظات کی فراہمی میں متحد ہیں۔ کمیشن نے ریاستی حکومت پر زور دیا کہ کوآپریٹیو سوسائٹیز میں بھی بی سی تحفظات کو یقینی بنانے کے لئے ضروری ترمیم کریں۔ بی سی کمیشن نے مزید بہتر کارکردگی کے لئے کمیشن کے اختیارات میں اضافہ پر زور دیا۔ کمیشن کی جانب سے کالوجی نارائن راؤ ہیلت یونیورسٹی، ڈائرکٹر اسکول ایجوکیشن، سکریٹری بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اور سکریٹری اعلیٰ تعلیم کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے طبقاتی بنیادوں پر طلبہ کی تفصیلات روانہ کرنے کی خواہش کی ہے۔ ڈائرکٹر جنرل سنٹر فار گڈ گورننس کو مکتوب روانہ کیا گیا جس میں مختلف طبقات کو دی جانے والی اسکالرشپ کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔ سرکاری محکمہ جات میں ملازمین کی طبقاتی نمائندگی کی تفصیلات بھی کمیشن نے طلب کی ہے۔ 1