نئی دہلی : حکومت نے کاروبار کرنے میں آسانی کو بڑھانے اور چھوٹی کمپنیوں کے تعمیل کے بوجھ کو کم کرنے کے مقصد سے قانون میں اب مزید ترمیم کردی ہے ، جس کے مطابق اب ادا شدہ سرمائے کی حد کو ‘‘دوکروڑ روپے سے بڑھاکر چارکروڑ روپے اور کاروبار کو 20 کروڑ روپے سے بدل کر 40 کروڑ روپے کردیا ہے ۔کمپنی امور کی وزارت نے اس سلسلے میں ایک نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے ۔ کمپنی ایکٹ، 2013 اور لمیٹڈ لائیبلٹی پارٹنرشپ (ایل ایل پی) ایکٹ، 2008 کے مختلف التزامات کو جرم کے زمرے سے نکالنا، اسٹارٹ اپ میں فاسٹ ٹریک انضمام کو فروغ دینا، سنگل پرسن کمپنیوں (اوپی سی) کے کارپوریٹائزیشن کی حوصلہ افزائی وغیرہ شامل ہیں۔ ماضی میں، کمپنی ایکٹ، 2013 کے تحت “چھوٹی کمپنیوں” کی تعریف میں ان کے ادا شدہ سرمائے کی حد کو بڑھا کر ترمیم کی گئی تھی۔ اس تناظر میں، ادا شدہ سرمائے کی حد کو “50 لاکھ روپے سے زیادہ نہیں” کو”دو کروڑ روپے سے زیادہ نہیں” کر دیاگیاتھا۔ اسی طرح کاروبار کو “دو کروڑ روپے سے زیادہ نہیں” سے بدل کر “20 کروڑ روپے سے زیادہ نہیں” کر دیا گیاتھا۔چھوٹی کمپنیاں لاکھوں شہریوں کی کاروباری امنگوں اور اختراعی صلاحیتوں کی نمائندگی کرتی ہیں اورتخلیقی طورسے ترقی اور روزگار میں تعاون دیتی ہیں۔ حکومت کا ہمیشہ یہ عزم رہا ہے کہ قانون کی پاسداری کرنے والی کمپنیوں کے لیے زیادہ سے زیادہ کاروبار دوست ماحول پیدا کیا جائے ، جس میں ان کمپنیوں پر قانون کی پاسداری کا بوجھ کم کیا جا سکے ۔