قائدین کی 3 علیحدہ گروپ میں زمرہ بندی، پارٹی اور حکومت کے نامزد عہدوں پر حقیقی کانگریسیوں کو ترجیح رہے گی
حیدرآباد 6 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ میں کانگریس اُمور کی انچارج میناکشی نٹراجن کا انداز کارکردگی پارٹی کے عام قائدین سے مختلف ہے۔ پارٹی کے استحکام کے علاوہ پردیش کانگریس کمیٹی کی عاملہ اور نامزد سرکاری عہدوں پر تقررات کے معاملہ میں حقیقی کانگریسی کارکنوں کے ساتھ انصاف کے لئے میناکشی نٹراجن نے 3 گروپ فارمولہ تیار کیا ہے جس کے تحت وہ پارٹی قائدین کی زمرہ بندی کریں گی۔ پارلیمانی حلقہ جات کے جائزہ اجلاسوں میں شرکت کے بعد میناکشی نٹراجن نے اپنے 3 گروپ فارمولہ کا انکشاف کیا۔ پردیش کانگریس کمیٹی کی عاملہ، قانون ساز کونسل کی نشستوں اور سرکاری نامزد عہدوں پر تقررات کے خواہشمندوں کا ہجوم روزانہ اُن سے ملاقات کے لئے گاندھی بھون اور گیسٹ ہاؤز پر دیکھا جارہا ہے۔ ہر قائد خود کو پارٹی میں سینئر ہونے کا دعویٰ کررہا ہے اور قائدین کی زمرہ بندی کے ذریعہ میناکشی نٹراجن نے حقیقی کارکنوں کی نشاندہی کا فیصلہ کیا ہے۔ 10 سال کے وقفہ کے بعد تلنگانہ میں کانگریس کو اقتدار حاصل ہوا اور میناکشی نٹراجن چاہتی ہیں کہ 10 سال تک بی آر ایس حکومت کی ہراسانی کا سامنا کرنے اور پارٹی کو اقتدار میں لانے کی جدوجہد کرنے والے کارکنوں کو مستحقہ مقام دیا جائے۔ 3 گروپ فارمولہ کے تحت پہلا گروپ اُن قائدین کا رہے گا جو کئی دہوں سے کانگریس سے وابستہ ہیں جنھیں رئیل کانگریسی بھی کہا جاسکتا ہے۔ دوسرے گروپ میں اُن قائدین کو شامل کیا جائے گا جنھوں نے اسمبلی انتخابات سے قبل کانگریس میں شمولیت اختیار کی اور پارٹی کی کامیابی میں اہم رول ادا کیا۔ تیسرے گروپ کے تحت وہ قائدین شامل کئے جائیں گے جنھوں نے کانگریس کے برسر اقتدار آنے کے بعد شمولیت اختیار کی۔ تینوں زمرہ جات کے تعین کے بعد ہی نامزد عہدوں پر تقررات کے لئے میناکشی نٹراجن سفارش کریں گی۔ اُنھوں نے چیف منسٹر ریونت ریڈی اور صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ پر بھی واضح کردیا کہ پارٹی اور حکومت کے عہدوں میں حقیقی کارکنوں کو ترجیح دی جانی چاہئے۔ وہ کسی بھی عہدہ کے لئے ترجیحی بنیادوں پر پہلے گروپ میں شامل قائدین کے ناموں پر غور کریں گی۔ میناکشی نٹراجن کے انداز کارکردگی سے گزشتہ کئی دہوں سے پارٹی کا پرچم تھامے ہوئے قائدین میں اُمید جاگی ہے کہ اُنھیں پارٹی اور سرکاری عہدوں میں نمائندگی ملے گی۔ 1