کاغذ نگر : چیف منسٹر کے خطاب میں مسلمانوں کے مسائل نظرانداز

   

ڈیڑھ سال سے حکومت کی امداد کے منتظر جینور فساد متاثرین سے اظہار ہمدردی تک نہیں ، صرف ایس سی ، ایس ٹی کی فلاح و بہبود کا تذکرہ

تقریر کا موقع نہ دینے پر قبائیلی رکن اسمبلی بھی ناراض

کاغذ نگر ۔2 جون(ایم اے جمیل کی رپورٹ)ضلع کے بھی آصف آباد کے قبائلی علاقے اور کاغذ نگر کراس روڈ کے قریب کل یکم جون کو چیف منسٹر ریونت ریڈی کا عوامی جلسے سے خطاب ہوا۔ اس موقع پر ریاستی وزراء ویوک وینکٹ سوامی، جوپلی کرشنا راؤ ، سرینواس، سینا اکا ، رکن اسمبلی ڈاکٹر پی ہریش راؤ سرپورٹاؤن، رکن اسمبلی اصف اباد کوا لکشمی، رکن اسمبلی منچریال پریم ساگر راؤ، رکن اسمبلی بیلم پلی جی ونود کے علاوہ ڈسٹرکٹ کلکٹر کے ہریتا کے علاوہ دوسرے بھی موجود تھے۔ اس موقع پر ضلع کے بی آصف آباد کے دونوں ارکان اسمبلی کو پروٹوکال کے مطابق اپنے مسائل کو رکھنے اور تقریر کا موقع نہ دینے پر دونوں ارکان اسمبلی کے حامیوں کی جانب سے ناراضگی پائی گئی۔ اور آصف آباد رکن اسمبلی کوا لکشمی چیف منسٹر کے خطاب کے دوران ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے پروگرام سے باہر چلی گئی۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ایس سی ایس ٹی طبقے کی فلاح اور بہبود کے ترقیاتی کاموں کو انجام دینے کا بیان دیا۔ جبکہ اپنے خطاب کے دوران مسلم اقلیتوں کے حق میں ایک بھی جملہ استعمال نہ کرنے پر مسلمانوں کے مسائل کو بھی نظر انداز کرنے پر مسلمانوں میں ناراضگی پائی گئی۔ اس کے علاوہ جینور فساد میں کروڑوں روپے کے نقصانات اٹھانے والے اور ڈیڑھ سال سے امداد کے منتظر جینور کے تشدد کا شکار ہونے والے معصوم مسلمانوں کے حق میں چیف منسٹر کی جانب سے ایک بھی جملہ استعمال نہ کرنے پر ضلع کے تمام مسلمانوں میں ناراضگی پائی گئی۔ اس طرح سے چیف منسٹر ریونت ریڈی کے خطاب کے دوران مسلمانوں کے بارے میں ایک بھی جملہ ادا نہ کرنے پر ضلع کے مسلمانوں کے علاوہ سیکولر ذہن رکھنے والوں میں ناراضگی پائی گئی۔ واضح رہے کہ کاغذ نگر سے 12 کلومیٹر کی دوری پر کراس روڈ کے قریب پیر کی شام چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے عوامی جلسہ سے خطاب کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے ریاستی حکومت غریبوں اور مستحقین کو اندرامہ اسکیم کے تحت مکانات کی منظوری کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ پہلا مرحلہ مکمل کر چکے ہیں، اور دوسرے مرحلے کا آغاز کر تے ہوئے ریاستی سطح پر چار لاکھ 50 ہزار اندرماں مکانات کے تعمیراتی کاموں کو مکمل کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ اس کے علاوہ متحدہ ضلع عادل آباد کہ ہر قبائلی علاقے میں اندرام مکانات کی منظوری کرنے کا بھی اعلان کیا۔ بعد میں مقامی مختلف برقی سب اسٹیشنوں کا اور مقامی ترقیاتی کاموں سے متعلق 112 کروڑ اور 24 لاکھ کے مختلف عوامی ترقیاتی کاموں کا سنگ بنیاد رکھا. اجلاس سے قبل چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ضلع آصف آباد کے کوٹھاری قبائلی گاؤں کا دورہ کرتے ہوئے اندرامہ اسکیم کے تحت حضور اور تعمیراتی کاموں کو مکمل کیے گئے مکانات کا اغاز کرتے ہوئے اندرامہ اسکیم کے دوسرے مرحلے کا اغاز کیا اور انے والے دنوں میں تقریبا 2 لاکھ 50 ہزار اندرامہ مکانات کے تعمیراتی کاموں کو مکمل کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ اس موقع پر ضلع آصف آباد کے مختلف منڈلوں کے علاوہ ضلع منچریال سے بھی عوام کی کثیر تعداد نے اس جلسے میں شرکت کی۔