یونیورسٹی طلبہ ، ماہرین ماحولیات اور اہم شخصیات کی کامیابی ، حکومت اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے
حیدرآباد۔ 16 اپریل (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے تارک راما راؤ نے کانچہ گچی باؤلی اراضیات کے معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گچی باؤلی کی اراضی پر جنگل کو دوبارہ بحال کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔ کے ٹی آر نے آج میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ میں گچی باؤلی اراضی سے جنگل کو ختم کرنے کے خلاف سخت نوٹ لیا۔ ریاستی چیف سیکریٹری کے علاوہ اسٹیٹ چیف وائیلڈ لائف وارڈن کو ماحولیات کا تحفظ کرنے کیلئے جو احکامات جاری کیا ہے، وہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ اس کیلئے حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے طلبہ ، ماہرین ماحولیات اور اہم شخصیتوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ریاستی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے تحریک چلائی۔ وہ اُمید کرتے ہیں کہ تلنگانہ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل آوری کرے گی۔ کے ٹی آر نے جانوروں اور درختوں کیلئے آواز اٹھانے والے تمام افراد سے اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ جنگل حیدرآباد کا مستقبل ہے۔ حیدرآباد کے عوام کو اس جنگل سے آکسیجن دستیاب ہوتا ہے۔ اس کو مزید ترقی دینے کی ضرورت ہے۔ دہلی اور دیگر علاقوں میں ماحولیات کے بگاڑ کو ہم دیکھ رہے ہیں۔ حیدرآباد کو دوسرا دہلی بننے سے روکنے کیلئے ابھی سے خصوصی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، اس اراضی پر ایکو ٹورازم کو ترقی دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ کے ٹی آر نے سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی کی سفارشات کا بھی خیرمقدم کیا ہے۔ اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی بتایا کہ ریونت ریڈی حکومت خانگی افراد کو یہ اراضی حوالے کرتے ہوئے معاشی بے قاعدگیوں کو بھی بڑھاوا دینے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ یہ بہت بڑا اسکام ہے۔ ریونت ریڈی اس خوبصورت جنگل کو مٹاتے ہوئے 10 ہزار کروڑ روپئے کے اسکام میں ملوث ہونے کی کوشش کررہے تھے۔ جنگلات اور ماحولیات کے معاملات میں ریونت ریڈی ’’نمبر ون ویلن‘‘ بن چکے ہیں۔ جنگلات کو ختم کرنا ماحولیات کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ وہ حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کریں اور اپنے ناپاک منصوبوں سے فوری طور پر دستبردار ہوجائیں۔2