کانگریس اختلافات کا نیا موڑ، تلگودیشم سے آنے والے 12 قائدین عہدوں سے مستعفی

   


تنازعہ کو ختم کرنے کی کوشش، مانکیم ٹیگور کو اجتماعی مکتوب استعفی روانہ،رکن اسمبلی سیتکاعاملہ سے مستعفی

حیدرآباد۔/18 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) کانگریس پارٹی میں اختلافات اور گروپ بندیوں نے آج اس وقت ایک نیا موڑ لے لیا جب تلگودیشم سے کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے والے 12 قائدین نے اپنے پارٹی عہدوں سے استعفی دے دیا۔ ریونت ریڈی کی مخالفت میں اتم کمار ریڈی کی زیر قیادت سینئر قائدین کے گروپ نے الزام عائد کیا تھا کہ پارٹی عہدوں میں تلگودیشم سے شامل ہونے والے قائدین کو اہمیت دی گئی ہے۔ ناراض قائدین کی اس مہم کا جواب ریونت ریڈی گروپ نے استعفوں کے ذریعہ دیا ہے۔ پارٹی عاملہ میں عہدے حاصل کرنے والے 12 قائدین نے انچارج سکریٹری مانکیم ٹیگور کو اپنا اجتماعی مکتوب استعفی روانہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ عہدوں کے بغیر کانگریس کو برسراقتدار لانے کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ان قائدین نے کہا کہ استعفوں کے ذریعہ وہ اس تنازعہ کو ختم کرنا چاہتے ہیں تاکہ تمام قائدین متحدہ طور پر کام کریں۔ان قائدین نے واضح کیا کہ وہ 6 سال قبل تلگودیشم سے استعفی دے کر کانگریس میں شامل ہوئے ہیں اور آج تک بھی انہوں نے کسی عہدہ کے لالچ کے بغیر پارٹی کیلئے کام کیا ہے۔ جن 12 قائدین نے اپنے عہدوں سے استعفی دیا ان میں رکن اسمبلی بی سیتکا اور ایم نریندر ریڈی شامل ہیں جنہوں نے پردیش کانگریس عاملہ کے ارکان کے عہدوں سے استعفی پیش کیا ہے۔ نائب صدور کے طور پر شامل کئے گئے سی ایچ وجئے رمنا راؤ، ڈی سامبیا اور وی یادو نے بھی استعفے پیش کردیئے۔ صدر ضلع کانگریس کمیٹی کریم نگر کے عہدہ سے ڈاکٹر کے ست نارائنا نے استعفی دیا ہے۔ 6 جنرل سکریٹریز نے استعفی کا اعلان کیا جن میں سبھاش ریڈی، بی وینکٹیش، ایس ملیش، ٹی رمیش ریڈی، ایس یادو ریڈی اور سی مدھو سدن ریڈی شامل ہیں۔ ان تمام پر الزام ہے کہ وہ ریونت ریڈی گروپ سے تعلق رکھتے ہیں اور ریونت ریڈی نے ہائی کمان سے پیروی کرتے ہوئے عہدے دلائے ہیں۔ ریونت ریڈی کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ نئی عاملہ میں صرف 15 ایسے قائدین ہیں جو تلگودیشم پارٹی سے کانگریس میں شامل ہوئے تھے، ان میں سے 12 نے آج اپنا اجتماعی استعفی روانہ کردیا جبکہ 3 دوسرے قائدین وہ ہیں جنہیں اتم کمار ریڈی اور دوسروں کی سفارش پر عہدے حاصل ہوئے ہیں۔ 22 رکنی پولٹیکل افیرس کمیٹی اور 26 ضلعی صدور میں ایک بھی تلگودیشم سے شامل ہونے قائد موجود نہیں۔ 40 رکنی عاملہ میں 2 ، 24 نائب صدور میں 5 اور 84 جنرل سکریٹریز میں 5 قائدین ایسے ہیں جو تلگودیشم سے کانگریس میں شامل ہوئے تھے۔ اجتماعی مکتوب استعفی میں ان قائدین نے کہا کہ وہ گذشتہ 6 برسوں سے پہلے اتم کمار ریڈی اور اب ریونت ریڈی کی قیادت میں کام کررہے ہیں۔ اس مدت میں انہوں نے کسی بھی گروپ سے وابستہ نہیں رہے اور سینئر قائدین کے اس بیان سے انہیں تکلیف پہنچی کہ کمیٹیوں میں 50 فیصد تلگودیشم سے آنے والوں کو شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ عہدوں کے بغیر پارٹی کو برسراقتدار لانے کیلئے کام کریں گے کیونکہ تلنگانہ عوام کانگریس کو برسراقتدار دیکھنا چاہتے ہیں۔ سینئر قائدین کے بیانات سے عوام میں مایوسی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عہدوں سے استعفے پیش کرتے ہوئے وہ اس تنازعہ کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور وہ پارٹی کیلئے بدستور کام کرتے رہیں گے۔ر