کانگریس اور بی جے پی محاذوں پر ہونگے : محمد ادیب

   

عام انتخابات 2024ء

جو غیربی جے پی اور غیرکانگریسی اتحاد کی بات کرتا ہے ، وہ دراصل بی جے پی کا حامی ہے

حیدرآباد۔ 26 ستمبر (سیاست نیوز) حکمراں بی جے پی نے 2024ء کے عام انتخابات کی تیاریاں شروع کردی ہیں اور اس کے لئے خاص طور پر وزیر داخلہ امیت شاہ اور ان کے بااعتماد رفقاء بہت زیادہ سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ امیت شاہ نے تو اپوزیشن کے زیرکنٹرول 144 پارلیمانی حلقوں پر ساری توجہ مرکوز کرنے اور ساری توانائیاں صرف کردینے کی ہدایت دی ہے۔ حال ہی میں بی جے پی ارکان پارلیمان اور اہم قائدین بشمول مرکزی وزراء کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں واضح طور پر ارکان پارلیمان، مرکزی وزراء اور پارٹی قائدین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 144 نشستوں میں سے کم از کم 70 تا 75 حلقوں میں بی جے پی امیدواروں کو کامیابی دلانے میں اہم کردار ادا کریں۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں کم از کم 8 مرکزی وزراء کو انتباہ بھی دیا گیا کہ ان کی سرگرمیاں پارٹی قیادت کے توقعات پر پوری نہیں اُتر رہی ہیں۔ اگر ان کا یہی حال رہا تو پھر وہ سنگین نتائج بھگتنے کیلئے تیار رہیں۔ اگرچہ ایک طرف بی جے پی 2024ء کے عام انتخابات کی زور و شور کے ساتھ تیاریاں کررہی ہیں، دوسری طرف کانگریس میں راجستھان کی سیاسی صورتحال دیکھ کر پھوٹ کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ اس کے باوجود سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب کا دعویٰ ہے کہ مجوزہ عام انتخابات میں مقابلہ کانگریس اور بی جے پی کے زیرقیادت محاذوں کے درمیان ہوگا اور جو سیاسی قائدین و جماعتیں غیربی جے پی اور غیر کانگریسی اتحاد تشکیل دیتے ہوئے عام انتخابات لڑنے کی باتیں کرتے ہیں، وہ دراصل بی جے پی کے حامی ہیں اور بی جے پی کے اشاروں پر کام کررہے ہیں۔ محمد ادیب کے خیال میں 543 نشستوں میں سے 250 نشستوں پر کانگریس اور بی جے پی کا راستہ مقابلہ ہوگا۔ ایسے میں کانگریس کے بغیر اپوزیشن اتحاد کی باتیں عجیب و غریب نہیں بلکہ بی جے پی کی مدد کرنے اور اسے 2024ء کے عام انتخابات میں کامیابی کی جانب گامزن کرنے کے مترادف ہے۔ اس ضمن میں محمد ادیب ، چیف منسٹر تلنگانہ اور ٹی آر ایس سربراہ کے سی آر، چیف منسٹر دہلی اور عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کجریوال اور چیف منسٹر مغربی بنگال و ٹی ایم سی لیڈر ممتا بنرجی کے نام لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ علاقائی سیاسی جماعتیں، کانگریس کی جگہ لیتنا چاہتی ہیں، وہ سمجھتی ہیں کہ کانگریس کمزور ہوگئی ہے۔ ہم اس کا مقام حاصل کرسکتی ہیں۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر چاہتے ہیں کہ کانگریس کی نشستیں اپنے حق میں کرلیں۔ کجریوال کانگریس کو کمزور کرنے کے خواہاں ہیں۔ ممتا بنرجی کا بھی یہی حال ہے۔ اس کے برعکس بی جے پی سے اس کی نشستیں چھیننے یا حاصل کرنے میں کسی پارٹی کو کوئی دلچسپی نہیں۔ جہاں تک پنجاب کا سوال ہے، پنجاب میں کانگریس کو عام آدمی پارٹی نے نہیں ہرایا بلکہ وہاں کانگریس نے اپنے خلاف خود گول کردیا جبکہ عام آدمی پارٹی گجرات میں بی جے پی کو نہیں بلکہ صرف اور صرف کانگریس کو شکست دینے کیلئے جارہی ہے۔ ٹی آر ایس ہو یا عام آدمی پارٹی یہاں تک کہ ٹی ایم سی بھی بالواسطہ طور پر کانگریس کے خلاف بی جے پی کی مدد کررہی ہیں۔ صرف ایک پارٹی شیوسینا تھی جو بی جے پی کی نشستیں حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ اب اسے بھی کمزور کردیا گیا (فی الوقت ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا پریشان ہے)۔ محمد ادیب کے مطابق انہیں حیرت اس بات کی ہے کہ آسمان کو چھوتی مہنگائی، بیروزگاری کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ، خواتین پر جنسی تشدد کے بڑھتے واقعات، فرقہ پرستی، قتل و غارت گری، مختلف بہانوں سے اقلیتی نوجوانوں کے قتل، دلتوں پر حملے، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ اور کئی ایک عوام دشمن پالیسیوں کے باوجود عوام سڑکوں پر آنے کی جرأت نہیں کرپارہے ہیں۔ جبکہ یوروپی ملکوں میں معمولی سی ناانصافی اور حکومتوں کے غلط فیصلوں کو برداشت نہیں کیا جاتا۔ عوام فوری سڑکوں پر آجاتے ہیں۔ اب اس ملک میں سیول سوسائٹی کے ذریعہ ہی انقلاب آئے گا۔ محمد ادیب کے مطابق اس میں کوئی شک نہیں کہ بی جے پی کا مقابلہ کانگریس کے زیرقیادت اتحاد ہی کرسکتا ہے لیکن یہ بھی افسوس کی بات ہے کہ کانگریس کے بشمول دوسری اپوزیشن جماعتیں بھی ہندو ووٹ سے محرومی کے خوف سے مسلم رائے دہندوں سے دوری اختیار کررہی ہیں۔ وہ یہ ماننے لگے ہیں کہ مسلمان تو ہمیں ووٹ دیں گے لیکن مسلمانوں سے قربت کے نتیجہ میں وہ ہندو ووٹوں سے محروم ہوجائیں گے، اس معاملے میں کانگریس کا بھی یہی حال ہے۔ کم از کم موجودہ حالات میں اسے اپنی روش تبدیل کرنی ہوگی، ورنہ وہ اپنے ہاتھوں خود تباہ ہوجائے گی۔ اگر دیکھا جائے تو یہ لڑائی گدی کی لڑائی ہے۔ کانگریس اور بی جے پی اقتدار کے لئے لڑ رہے ہیں جبکہ مسلمان اپنے مستقبل کیلئے لڑ رہا ہے۔ اس بات کو لے کر لڑرہا ہے کہ یہ ملک میں وہ کیسے زندہ رہے گا۔