کانگریس اور بی جے پی نے ہریش راؤ کو بالواسطہ راغب کرنا شروع کردیا

   

حیدرآباد ۔ 17 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کے سینئیر قائد ٹی ہریش راؤ کانگریس اور بی جے پی کے ساتھ ایک اہم موضوع بن گئے ہیں ۔ کانگریس اور بی جے پی دونوں کے قائدین ہریش راؤ کو تمام ممکن طریقوں سے تنگ کرتے ہوئے ان کے اور بی ار ایس کے خلاف ریمارکس کررہے ہیں ۔ اسمبلی میں بھی وزراء نے ہریش راؤ کو تنگ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہریش راؤ اگر بی آر ایس میں رہے تو چیف منسٹر نہیں بنیں گے ۔ تاہم کانگریس اور بی جے پی کا اس طرح کہنا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ انہیں بالواسطہ طور پر ان کی پارٹیوں میں شمولیت کے لیے دعوت دے رہے ہیں ۔ بی آر ایس کی جانب سے ہریش راؤ کو اسمبلی میں زیادہ مواقع دئیے جارہے ہیں ۔ حالانکہ پارٹی نے کے سی آر کو فلور لیڈر اور کڈیم سری ہری کو ڈپٹی فلور لیڈر مقرر کیا ہے ۔ ہریش راؤ کانگریس سے موثر انداز میں نمٹ رہے ہیں اور اپنی بات چیت کی مہارت سے اسے مشکل میں ڈال رہے ہیں ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکمران جماعت نے ہریش راؤ کو مشکل میں ڈالنے کے لیے ایک جوابی حکمت عملی بنائی ہے ۔ اس کے حصہ کے طور پر حکمران جماعت کے قائدین ہریش راؤ کے خلاف ریمارکس کررہے ہیں اور کومٹ ریڈی برادرس اس میں آگے ہیں ۔ وزیر عمارات و شوارع کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے جمعرات کو کہا کہ اگر ہریش راؤ بی آر ایس سربراہ کے چندر شیکھر راؤ کی مخالفت کرتے ہوئے بی آر ایس چھوڑ کر کانگریس میں آئیں تو کانگریس انہیں پارٹی میں شامل کرے گی ۔ وینکٹ ریڈی نے پیش قیاسی کی کہ بی آر ایس میں کویتا ، ہریش ، کے ٹی آر اور کے سی آر کے ذریعہ تکڑے ہوں گے اور یہ چار جماعتیں بن جائیں گے ۔ کومٹ ریڈی راج گوپال ریڈی نے کہا کہ بی آر ایس کی بقاء ہریش راؤ کو اس کا صدر بنانے پر ہی ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ ہریش راؤ ایک باصلاحیت سیاست داں ہیں اور اگر وہ بی آر ایس کے 26 ارکان اسمبلی کے ساتھ کانگریس میں شامل ہوں تو انہیں وزیر کا عہدہ دیا جائے گا ۔ بی جے پی بھی اسی طرح کے بیانات دے رہی ہے ۔۔