سینیئر بی آر ایس پارٹی قائد جناب علی مسقطی کا پریس کانفرنس سے خطاب
حیدرآباد ۔ 23 ۔ اپریل : ( راست ) ۔ جناب علی مسقطی نے آج میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سابقہ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور سابق وزیر مسٹر ٹی ہریش راؤ کو بڑی راحت دیتے ہوئے تلنگانہ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ جسٹس پی سی گھوش کمیشن کی رپورٹ کی بنیاد پر اُن دونوں سمیت دیگر دو درخواست گزاروں کے خِلاف کوئی کاروائی نہ کرے، اور کہا کہ سب معاملہ ٹھیک ٹھاک ہے،علی مسقطی نے کہا کہ کانگریس حکومت نے جو الزامات کے چندر شیکھر راؤ، اور ہریش راؤ پر عائد کیے گئے تھے وہ حکومت پر ایک بد نما داغ کے مماثل ہیں انہوں نے کہا کہ،کے سی آر نے تقریبا 20 سال کی جدوجہد اور کوششوں کے بعد علحدہ تلنگانہ ریاست کا قیام عمل میں لایا اور ریاست تلنگانہ میں کالیشورم پراجیکٹ کے علاوہ دیگر کئی پراجکٹس بشمول فلائی اوور بریجس کی تکمیل کرتے ہوئے ہندوستان بھر میں ریاست تلنگانہ کو نمبر ون ریاست کا درجہ دلایا ایسے شخص پر الزامات عائد کرنا، تنقید کرنا کانگریس نے اپنا وطیرہ بنا لیا ہے، انہوں نے کہا کہ جو کام کرتے ہیں ان پر الزامات عائد کرنا اور تنقید کرنا کانگریس کا شیوہ بن چکا ہے۔ علی مسقطی نے کہا کہ، کے سی آر نے، ہر گاؤں ہر ضلع میں پینے کے پانی کی وافر مقدار میں سہولت فراہم کی اور دیگر ترقیاتی کام کرتے ہوئے ریاست بھر میں اپنی ایک منفرد شناخت قائم کی جبکہ دوسری حکومتیں غریب عوام کے لیے کچھ نہیں کرتی۔ ایسے شخص پر الزامات عائد کرنا، تنقید کرنا کانگریس نے اپنا نشانہ بنا لیا ہے، انہوں نے کہا کہ جو کام کرتے ہیں ان پر الزامات عائد کرنا اور تنقیدوں کا سہارا لینا اُن کا وطیرہ بن چُکا ہے،لیکن کے سی ار نے اپنے دور حکمران میں گھر گھر پینے کے پانی کی سربراہی کو لامتناہی طور پر جاری رکھا غریب عوام کے لیے دو بیڈ روم پر مشتمل کمپلکس کا جال بچھایا اور جن کے پاس کھلی اراضی پانچ ایکڑ اور دس ایکڑ واقع تھی اُنہیں کاشت کاری کے لیے رقم کی ا جرائی کو یقینی بنا یا اسی طرح کے چندر شیکھر راؤ کارنامے بے شمار ہے جس کی وجہ سے اج غریب عوام کو باریک چاول نصیب ہو رہا ہے ۔ علی مسقطی نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے جو چھ اسکیمات کا اعلان کیا تھا آج کی تاریخ تک اس پر عملہ واری نہیں کی گئی نہ ہی کوئی مسلمان کو ایم ایل سی بنایا گیا نہ ہی کسی کو منتخب کیا گیا قبل ازیں ایک مسلمان کو ایم ایل سی بنایا گیا اور چند دن میں انہیں ہٹا دیا گیا یہ قانون کونسا ہے جب حکومت کو کسی مسلمان کو ایم ایل سی بنانا تھا تو پھر سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا تھا لیکن کسی قابل اور معتبر شخصیت کو ایم ایل سی کے عہدے پر فائض کرنا بعد ازاں ان کے متبادل کسی اور کو منتخب کرنا مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے اُنہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت کبھی بھی مسلمانوں کی تھی اور نہ ہی ہے انہوں نے کہا کہ مقامی پارٹیاں جیسے تلگو دیشم اور ٹی آر ایس یہ پارٹیاں ریاست کو عملی طور پر ترقیاتی ریاست میں تبدیل کرتے ہوئے عوام کو سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی لیکن اس کے برعکس کانگریس حکومت کبھی بھی ترقیاتی کاموں پر توجہ نہیں دی بلکہ سابقہ حکمران پر الزامات عائد کرنا، مقدمات درج کروانا اور عوام کو دھوکہ دینا یہی کام کانگریس کر رہی ہے آج کانگریس کو ہائی کورٹ کے فیصلے کے باعث نہ صرف بڑا جھٹکا ملا ہے بلکہ حکومت کو بدنامی بھی حاصل ہوئی ہے،علی مسقطی نے کہا کہ وہ ہائی کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں عدلیہ نے اپنے فیصلے کے ذریعے حکومت کی کالے کرتوتوں کو بے نقاب کیا ہے انہوں نے سابقہ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور کے ٹی راما راؤ اور ہریش راؤ کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ حق و باطل کی لڑائی میں حق کو جیت حاصل ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے سے نہ صرف بی آر ایس پارٹی قائدین، کارکنان بلکہ ریاست تلنگانہ کے بلا لحاظ مذہب و ملت عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے علی مسقطی نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے حیڈر اکے نام پر غریب عوام کو بے گھر کردیا گیا ہے لہذا حکومت کو چاہیے کہ وہ ان کاموں پر نظر ثانی کرے۔