جامعہ نظامیہ اراضی کی نیلامی ، اردو اکیڈیمی اراضی کی لیز سے فوری دستبرداری اختیار کرنے کا مطالبہ
حیدرآباد ۔ 4 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کے سینئیر قائد اور سابق صدر نشین اقلیتی مالیاتی کارپوریشن امتیاز اسحاق نے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ کانگریس پارٹی نے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی حفاظت ، ترقی اور وقف جائیدادوں کے تحفظ کے سبز باغ دکھاتے ہوئے اقتدار حاصل کیا لیکن محض دو سال کے اندر کانگریس حکومت نے مسلمانوں کو لوٹنے ، دھوکہ دینے اور ڈبونے کا کام کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج ریاست کے مسلمان کانگریس کو ووٹ دے کر شدید پچھتاوے اور افسوس کا اظہار کررہے ہیں ۔ امتیاز اسحاق نے کہا کہ وقف جائیدادوں کا تحفظ کرنے کا وعدہ کرنے والی کانگریس حکومت نے تاریخی دینی درسگاہ جامعہ نظامیہ کی قیمتی اراضی کو نیلام کرنے کے لیے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ۔ اردو اکیڈیمی کی 100 کروڑ روپئے مالیت کی قیمتی زمین کو خاموشی سے 30 سال کی طویل لیز پر دینے کے احکامات جاری کردئیے گئے ہیں جو کہ مسلم اثاثہ جات پر سیدھا ڈاکہ ہے ۔ بی آر ایس کے قائد نے اقلیتی اقامتی تعلیمی اداروں ( ٹمریز ) کی زبوں حالی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سابق چیف منسٹر کے سی آر نے غریب مسلم بچوں کو اعلیٰ اور معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لیے ٹمریز کا قیام عمل میں لایا تھا لیکن موجودہ کانگریس حکومت اداروں کو مکمل طور پر نظر انداز کررہی ہے۔ آئے دن طلبہ کے ساتھ ظلم و زیادتی ، بدفعلی کے ساتھ حق تلفی اور نا انصافی کے واقعات سامنے آرہے ہیں اور تعلیمی ماحول تباہ ہوچکا ہے جس کی تمام ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے ۔ حکومت کے دعوؤں کی قلعی کھولتے ہوئے امتیاز اسحاق نے کہا کہ کانگریس حکومت انتخابات کے وقت اقلیتی بہبود کے لیے پانچ ہزار کروڑ کے بڑے بجٹ کے اعلانات کئے تھے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج تک دو سال کے دوران اس وعدے کو پورا نہیں کیا گیا ۔۔ 2/a/b
جو بھی بجٹ منظور کیا گیا اس کا 50 فیصد حصہ بھی خرچ نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کانگریس حکومت اپنے ان مسلم دشمن فیصلوں سے فوری دستبرداری اختیار نہ کی تو آنے والے دنوں میں انہیں ریاست بھر کے مسلمانوں کی برہمی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔۔ 2/a/b