ملکارجن کھرگے کی قائدین سے مشاورت، مغربی بنگال اور کیرالا کی جانب سے بھی مخالفت یقینی
حیدرآباد۔/12 مارچ، ( سیاست نیوز) لوک سبھا انتخابات سے عین قبل مرکز کی نریندر مودی حکومت کی جانب سے شہریت ترمیمی قانون کے نفاذ کے فیصلہ پر ملک بھر میں مسلمانوں اور سیکولر پارٹیوں میں پائی جانے والی بے چینی کو دیکھتے ہوئے کانگریس ہائی کمان اپنی برسراقتدار ریاستوں میں CAA کے نفاذ کے خلاف فیصلہ کرسکتا ہے۔ پارلیمنٹ میں قانون کی منظوری کے چار سال بعد نفاذ کا اعلامیہ جاری کرتے ہوئے لوک سبھا انتخابات میں اکثریتی طبقہ کی تائید حاصل کرنے کی بی جے پی کی کوششوں کا کانگریس پارٹی مقابلہ کرے گی۔ باوثوق ذرائع کے مطابق تلنگانہ، کرناٹک اور ہماچل پردیش میں کانگریس حکومتوں کی جانب سے سی اے اے کے نفاذ کے خلاف فیصلے کے اعلان کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ کانگریس ملک میں سیکولرازم کی برقراری اور فرقہ پرستی کے خاتمہ کیلئے بھارت جوڑو نیائے یاترا کے ذریعہ عوام میں شعور بیدار کررہی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق صدر کانگریس ملکارجن کھرگے نے سی اے اے کے نفاذ سے متعلق بی جے پی حکومت کے اعلامیہ پر پارٹی قائدین کے ساتھ مشاورت کی۔ انہوں نے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو نشانہ بنانے کیلئے وضع کردہ متنازعہ قانون کے خلاف ملک بھر میں مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں ہائی کمان کے دیگر قائدین سے ملاقات کے ذریعہ لائحہ عمل طئے کیا جائے گا۔ ملک میں محض تین ریاستوں میں کانگریس پارٹی برقراقتدار ہے۔ تلنگانہ، کرناٹک اور ہماچل پردیش میں حکومتوں کی جانب سے سی اے اے کے نفاذ کے خلاف اعلان کے ذریعہ عوام میں یہ پیام دیا جائے گا کہ کانگریس پارٹی سیکولرازم کے اصولوں پر اٹوٹ قائم ہے اور مذہب کی بنیاد پر کسی سے جانبداری کی اجازت نہیں دے گی۔ ٹاملناڈو حکومت کی جانب سے سی اے اے کے خلاف موقف اختیار کرنے کے بعد کانگریس کی تین برسراقتدار ریاستیں، ترنمول زیر اقتدار مغربی بنگال اور بائیں بازو زیر اقتدار کیرالا حکومتوں کی جانب سے بھی سی اے اے قانون کی مخالفت یقینی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ این ڈی اے اتحاد میں شامل بعض پارٹیوں نے سی اے اے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ راجستھان اور چھتیس گڑھ میں حالیہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو شکست ہوئی اور بی جے پی برسراقتدار آئی جس کے بعد کانگریس زیر اقتدار ریاستوں کی تعداد گھٹ کر3 رہ گئی ہے۔1