کانگریس صدر کے الیکشن میں ڈرامائی تبدیلیاں، ڈگ وجئے سنگھ کا نام منظر عام پر

   

تلنگانہ اور آندھراپردیش سے تائید کے حصول کی کوشش، راجستھان کی باغیانہ سرگرمیوں سے اشوک گہلوٹ کو نقصان
حیدرآباد ۔29 ۔ ستمبر (سیاست نیوز) کانگریس پارٹی کے نئے صدر کے انتخاب کے لئے جاری سرگرمیوں میں دن بہ دن ڈرامائی تبدیلیاں دیکھی جارہی ہیں۔ صدارتی امیدوار کے طور پر چیف منسٹر راجستھان اشوک گہلوٹ اور سابق مرکزی وزیر ششی تھرور کے نام منظر عام پر آئے تھے لیکن راجستھان میں ہائی کمان کے خلاف اشوک گہلوٹ کے حامی ارکان اسمبلی کی بغاوت کے بعد ہائی کمان نے صدارتی امیدوار کے طور پر سابق چیف منسٹر مدھیہ پردیش ڈگ وجئے سنگھ کے نام کی اندرونی طور پر سفارش کردی ہے۔ ڈگ وجئے سنگھ نے اگرچہ سونیا گاندھی سے ملاقات نہیں کی لیکن انہوں نے کل 30 ستمبر کو پرچہ نامزدگی کے ادخال کا اعلان کیا ہے ۔ ڈگ وجئے سنگھ کی امیدواری کی صورت میںکانگریس صدر کا الیکشن دلچسپ موڑ اختیار کرسکتا ہے ۔ آیا مقابلہ سہ رکنی ہوگا یا پھر ہائی کمان کی ناراضگی کے سبب اشوک گہلوٹ مقابلہ سے دستبرداری ہوجائیں گے ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق ہائی کمان نے پارٹی کے وفادار اور سینئر قائد ڈگ وجئے سنگھ کی تائید کا فیصلہ کیا ہے اور ان کے حق میں مختلف ریاستوں سے تائید کے حصول کی کوشش کی جارہی ہے ۔ ہائی کمان کے نمائندوں نے تلنگانہ اور آندھراپردیش کے کئی سینئر قائدین سے ربط قائم کرتے ہوئے ڈگ وجئے سنگھ کی تائید کی سفارش کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اشوک گہلوٹ کے حامی ارکان کو پارٹی کی جانب سے وجہ نمائی نوٹس کے بعد گہلوٹ کا نام ہائی کمان کے امیدوار کی فہرست سے خارج ہوچکا ہے۔ اگرچہ اس سلسلہ میں کوئی واضح اعلان نہیں کیا گیا لیکن اشوک گہلوٹ کی جانب سے پرچہ نامزدگی کے ادخال کا کوئی اشارہ نہیں دیا گیا۔ ڈگ وجئے سنگھ نے راہول گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا کی منصوبہ بندی میں اہم رول ادا کیا تھا۔ کنیا کماری سے کشمیر تک 3,500 کیلو میٹر کی بھارت جوڑو یاترا کے تحت راہول گاندھی کیرالا میں ہیں۔ کانگریس کے کئی سینئر قائدین نے راجستھان کی حالیہ تبدیلیوں کے پیش نظر اشوک گہلوٹ کے نام کی مخالفت کی ہے۔ واضح رہے کہ کانگریس کے صدر کیلئے 19 اکتوبر کو رائے دہی ہوگی ۔ پردیش کانگریس کمیٹیوں کے مندوبین کو ووٹ کا حق حاصل رہے گا۔ ہائی کمان اگر صدور پردیش کانگریس کو ڈگ وجئے سنگھ کی تائید کے لئے مساعی کریں تو پھر ان کی کامیابی یقینی ہوجائے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ اور آندھراپردیش کے کئی کانگریس قائدین نے ڈگ وجئے سنگھ سے بات چیت کی اور ہائی کمان کی تائید کی صورت میں ان کے حق میں مہم چلانے کا وعدہ کیا۔ر