ماسٹر پلان کی مخالفت میں کاما ریڈی بند منایا گیا
حیدرآباد۔7۔ جنوری (سیاست نیوز) سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر کو آج کاما ریڈی میں اس وقت حراست میں لے لیا گیا جب ماسٹر پلان کی مخالفت کرتے ہوئے احتجاج کرنے والے کسانوں کی تائید میں وہ اندرا چوک پہنچے۔ محکمہ بلدی نظم و نسق کی جانب سے ماسٹر پلان کے نام پر اراضیات کے حصول کے خلاف کاما ریڈی میں کسانوں کا احتجاج جاری ہے ۔ کانگریس پارٹی نے نہ صرف احتجاج کی تائید کی بلکہ آج کل جماعتی بند منایا گیا۔ پولیس نے کانگریس کے علاوہ دیگر پارٹیوں کے قائدین کو بھی حراست میں لے لیا۔ وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ نے ٹوئیٹر پر لکھا کہ اگر کسانوں کو منظور نہیں تو حکومت ماسٹر پلان پر عمل نہیں کرے گی لیکن کسان اس سلسلہ میں واضح تیقن کا مطالبہ کیا۔ ماسٹر پلان کے خلاف کل جماعتی جوائنٹ ایکشن کمیٹی تشکیل دی گئی۔ صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے بند کی تائید کی اور ماسٹر پلان سے دستبرداری کیلئے چیف منسٹر کے سی آر کو مکتوب روانہ کیا۔ احتجاجی کسانوں نے ضلع کلکٹریٹ کے گھیراؤ کی کوشش کی ۔ کانگریس قائد محمد علی شبیر احتجاج کی قیادت کر رہے تھے۔ پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا ۔ بعد میں محمد علی شبیر نے کسان کانگریس کے نائب صدرنشین ایم کودنڈا ریڈی اور دیگر قائدین کے ہمراہ ضلع کلکٹر سے ملاقات کی اور یادداشت حوالے کی۔ انہوں نے کہا کہ ماسٹر پلان کے بارے میں حکومت کو واضح موقف اختیار کرنا چاہئے ۔ انہوں نے ضلع کلکٹر سے خواہش کی کہ کسانوں کی یادداشت حکومت کو روانہ کریں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ ماسٹر پلان سے دستبرداری تک احتجاج جاری رہے گا۔ر