سینئر قائد کی بی آر ایس میں شمولیت سے پارٹی کو استحکام حاصل ہونے کی امید
حیدرآباد 9 اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ کی سیاست میں ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ بی آر ایس ورکنگ صدر کے ٹی آر نے جگتیال پہنچ کر سابق وزیر ٹی جیون ریڈی سے ملاقات کرکے انہیں بی آر ایس میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔ بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کانگریس پر سخت تنقید کی اور کہا کہ کانگریس میں سینئر اور وفادار قائدین کی توہین ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی سربراہ کے چندر شیکھر راؤ کی ہدایت پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ جیون ریڈی کی قیامگاہ پہنچ کر انہیں پارٹی میں شامل ہونے کی باقاعدہ دعوت دی ہے۔ کے ٹی آر نے یاد دلایا کہ 2014 کے انتخابات سے قبل کے سی آر نے جیون ریڈی کو پارٹی میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی۔ تاہم وہ بااصول لیڈر کے طور پر کانگریس کے ساتھ رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر اور جیون ریڈی کے درمیان ہمیشہ خوشگوار تعلقات رہے ہیں اور ریاست کی تشکیل کے بعد یہ رشتہ مضبوط رہا ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ چیف منسٹر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد جب کے سی آر نے پہلی مرتبہ جگتیال کا دورہ کیا تو جیون ریڈی نے ترقیاتی امور پر اہم تجاویز پیش کئے جن پر فوری عمل کیا گیا۔ خاص طور پر ضلع کریم نگر میں ترقیاتی منظوریاں دی گئیں۔ کے ٹی آر نے کہا کہ جیون ریڈی نے شوگر فیکٹری کے مسئلہ پر بھرپور جدوجہد کی تھی، جس کے تناظر میں کے سی آر نے مہاراشٹرا ماڈل پر کوآپریٹیو سوسائٹی قائم کرنے کی تجویز دی۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ جیون ریڈی کی بی آر ایس میں شمولیت پارٹی کو مزید مضبوط کرے گی اور جگتیال کی قیادت نے بھی اس فیصلہ کی حمایت کی ہے ۔ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ موجودہ حکومت وعدوں کی خلاف ورزی کر رہی ہے اور کسانوں کے مسائل کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کسانوں پر بھاری قرض بوجھ ہے اورحکومت نے کسان بندھو اسکیم سے متعلق وعدے بھی پورے نہیں کئے ۔ انہوں نے چیف منسٹر ریونت ریڈی کی زبان پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ عوامی نمائندوں کو مہذب گفتگو کرنی چاہئے۔ جیون ریڈی بہت جلد پارٹی سربراہ کے سی آر سے ملاقات کریں گے جس کے بعد مستقبل کی حکمت عملی طئے کی جائے گی۔2/k