کانگریس وار روم پر پولیس کارروائی کیخلاف لوک سبھا میں تحریک التواء

   

نوٹس کے بغیر دھاوا کیا گیا، گورنر سے رپورٹ طلب کرنے مانکیم ٹیگور کا مطالبہ
حیدرآباد ۔14 ۔ڈسمبر (سیاست نیوز) لوک سبھا میں آج کانگریس کے رکن مانکیم ٹیگور نے حیدرآباد میں کانگریس وار روم پر پولیس کارروائی کے خلاف تحریک التواء پیش کی۔ مانکیم ٹیگور نے سکریٹری لیجسلیچر کو اس سلسلہ میں مکتوب روانہ کیا جس میں کہا گیا ہے کہ تلنگانہ پولیس نے حیدرآباد میں کانگریس وار روم پر دھاوا کرتے ہوئے پانچ کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ مانکیم ٹیگور نے اس مسئلہ پر مباحث کی مانگ کی ۔ اسپیکر اوم برلا نے تحریک التواء کو نامنظور کرتے ہوئے خصوصی تذکرہ کے تحت اظہار خیال کا موقع دینے کا تیقن دیا۔ مانکیم ٹیگور نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے اپیل کی کہ وہ پولیس کارروائی پر گورنر سے رپورٹ طلب کریں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس وار روم میں پولیس نے غیر قانونی طور پر داخل ہوتے ہوئے کمپیوٹرس کو نقصان پہنچایا۔ 300 سے زائد نوجوان وار روم میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ کی ہدایت پر پولیس نے وار روم پر دھاوا کیا اور خاتون ملازمین سے بدسلوکی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وار روم کے ٹیلی ویژن سیٹس کو نقصان پہنچایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے 50 کمپیوٹرس اور ہارڈ ڈسک کو ضبط کرلیا ہے۔ مانکیم ٹیگور نے کارروائی پر احتجاج کرنے والے کانگریس قائدین محمد علی شبیر ، ملو روی اور انیل کی گرفتاری کی مذمت کی۔ انہوں نے کہاکہ سیکشن 41-A سی آر پی سی کے تحت کوئی نوٹس نہیں دی گئی اور پولیس کی کارروائی سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر فیس بک پر قابل اعتراض پوسٹ کیا گیا تو پولیس کو نوٹس دینی چاہئے تھی۔ پولیس کی اس کارروائی پر گورنر تلنگانہ سے رپورٹ طلب کی جائے۔ر