گمبھی راؤ پیٹ۔ 25 ستمبر (آصف علی سعادت کی رپورٹ) راجنا سرسلہ ضلع کے گمبھی راؤ پیٹ منڈل میں کانگریس پارٹی کے قائدین کی جانب سے ایک ہی موضوع پر الگ الگ ریلیاں نکالے جانے کا معاملہ مقامی سیاسی حلقوں میں موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ سرسلہ میں 30 ستمبر کو وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کے جلسہ عام کی تیاریاں جاری رہنے کے دوران یہ صورتحال سامنے آئی ہے۔گمبھی راؤ پیٹ منڈل کانگریس صدر کی حیثیت سے ترپتی کی تقرری کے بعد نئی کمیٹی کی قیادت میں پارٹی سرگرمیاں جاری ہیں۔ دوسری جانب سابق منڈل صدر حمید کی قیادت میں بھی پارٹی کے بعض پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں۔ اسی پس منظر میں جمعہ کو ایک ہی موضوع پر دو الگ الگ ریلیاں نکالی گئیں۔سرسلہ کو ینگ انڈیا تلنگانہ انٹیگریٹڈ اسکول منظور کیے جانے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کانگریس پارٹی کی اپیل پر نئے منڈل صدر ترپتی کی قیادت میں قائدین اور کارکنوں نے گمبھی راؤ پیٹ میں اظہارِ تشکر ریلی نکالی۔ یہ ریلی کے جی تا پی جی مرکز سے گاندھی مجسمہ تک نکالی گئی۔بعد ازاں سابق منڈل صدر حمید، پرشا ہنمانڈلو اور گمبھی راؤ پیٹ پی اے سی ایس چیئرمین ویشال وینکٹ کی قیادت میں بھی اسی موضوع پر ایک اور اظہارِ تشکر ریلی نکالی گئی۔ ایک ہی دن اور ایک ہی موضوع پر دو الگ الگ ریلیوں کے انعقاد سے مقامی سیاسی حلقوں میں مختلف چہ میگوئیاں شروع ہوگئی ہیں۔ حال ہی میں گمبھی راؤ پیٹ پی اے سی ایس چیئرمین کی حیثیت سے ویشال وینکٹ کی حلف برداری تقریب منعقد ہوئی تھی۔ اس تقریب میں نئے منڈل کانگریس صدر ترپتی اور ان کی ٹیم کی عدم شرکت بھی اس وقت مقامی سطح پر موضوعِ بحث بنی تھی۔ دوسری جانب حمید، پرشا ہنمانڈلو، ویشال وینکٹ اور دیگر قائدین نے تقریب میں شرکت کی تھی۔ وزیراعلیٰ ریونت ریڈی 30 ستمبر کو سرسلہ میں جلسہ عام سے خطاب کرنے والے ہیں۔ اس کے پیش نظر کانگریس ضلع قیادت کی جانب سے عوامی اجتماع اور جلسہ کی تیاریوں پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ ایسے وقت میں منڈل سطح پر پارٹی سرگرمیوں میں باہمی تال میل اہمیت اختیار کر گیا ہے۔گمبھی راؤ پیٹ میں ایک ہی موضوع پر الگ الگ پروگراموں کے انعقاد سے کانگریس کی مقامی سیاست میں یہ معاملہ دلچسپ بحث کا باعث بنا ہوا ہے۔ آیا یہ محض پارٹی پروگراموں کے انعقاد سے متعلق معمول کی سرگرمیاں ہیں یا قائدین کے درمیان تال میل کا معاملہ، اس بارے میں آئندہ ہونے والی سرگرمیوں اور قائدین کے بیانات سے مزید وضاحت ہونے کا امکان ہے۔