کانگریس کو تلنگانہ میں 14 لوک سبھا نشستوں پر کامیابی : دیپا داس منشی

   

راہول گاندھی کی مقبولیت سے نریندر مودی خوفزدہ، ریاست میں پانچ وعدوں پر عمل آوری: سریدھر بابو
حیدرآباد ۔ 3 ۔ مئی (سیاست نیوز) جنرل سکریٹری اے آئی سی سی انچارج تلنگانہ دیپا داس منشی نے دعویٰ کیا کہ تلنگانہ میں کانگریس کو 14 لوک سبھا نشستوں پر کامیابی حاصل ہوگی۔ تلنگانہ کیلئے کانگریس پارٹی کے خصوصی انتخابی منشور کی اجرائی کے بعد دیپا داس منشی نے کہا کہ ملک میں تحفظات کو ختم کرنے کی سازش کے تحت بی جے پی 400 نشستوں پر کامیابی کی اپیل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں تبدیلی کی لہر ہے اور مرکز میں آئندہ حکومت کانگریس زیر قیادت انڈیا الائنس کی ہوگی۔ دیپاس داس منشی نے کہا کہ نریندر مودی دراصل راہول گاندھی کی بڑھتی مقبولیت سے خوفزدہ ہیں ، لہذا انتخابی مہم کے دوران راہول گاندھی کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ مودی نے راہول گاندھی کو پپو قرار دیا تھا لیکن راہول گاندھی نے ملک میں نفرت کے خاتمہ کے لئے بھارت جوڑو نیائے یاترا کے ذریعہ عوام کے دلوں میں جگہ بنالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی دستور میں تبدیلی کی سازش کر رہی ہے اور 400 نشستوں پر کامیابی کی صورت میں دستور اور ایس سی، ایس ٹی ، او بی سی طبقات کے تحفظات ختم کردیئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سماجی انصاف اور یکساں ترقی کے لئے راہول گاندھی کا وزیراعظم کے عہدہ پر فائز ہونا ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی ہمہ جہتی ترقی کیلئے عوام نے کانگریس کو اقتدار عطا کیا ہے۔ تلنگانہ عوام سے جن 6 ضمانتوں کا وعدہ کیا گیاتھا ، ان میں سے 5 پر عمل آوری کا آغاز ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور بی آر ایس خفیہ مفاہمت کے ذریعہ کانگریس کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ منشور کمیٹی کے صدرنشین سریدھر بابو نے کہا کہ بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت میں ریاست کی معاشی صورتحال ابتر ہوچکی ہے۔ کانگریس نے اقتدار کے 100 دنوں میں معاشی صورتحال پر قابو پانے کے اقدامات کئے ہیں۔ بی جے پی اور بی آر ایس میں تلنگانہ کی ترقی کو نظر انداز کردیا ۔ انہوں نے کہا کہ مرکز میں کانگریس برسر اقتدار آنے پر تلنگانہ سے کئے گئے 23 وعدوں پر عمل کیا جائے گا ۔ سریدھر بابو نے کہا کہ برقی صورتحال سے موثر انداز میں نمٹنے کیلئے مرکزی حکومت ہر گھر کیلئے سولار برقی پلانٹ کے قیام کا منصوبہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی اور انفارمیشن ٹکنالوجی کے شعبہ جات میں سرمایہ کاری میں اضافہ کے ذریعہ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں گے۔1