کانگریس کے لوک سبھا امیدواروں کی دوسری فہرست کو آج قطعیت کا امکان

   

13 نشستوں پر کامیابی ریونت ریڈی کا نشانہ، دیپاداس منشی کی پارٹی قائدین سے سرگرم مشاورت، کھمم کیلئے مسابقت
حیدرآباد 14 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ میں لوک سبھا چناؤ کیلئے کانگریس امیدواروں کی دوسری فہرست کو قطعیت دینے ہائی کمان کو سخت اُلجھن کا سامنا ہے کیونکہ پارٹی کے کئی سینئر قائدین اور وزراء کے رشتہ داروں کے درمیان پارٹی ٹکٹ کیلئے مسابقت جاری ہے ۔ امیدواروں کے انتخاب پر چیف منسٹر ریونت ریڈی کو چیلنج کا سامنا ہے کیونکہ اُن سے قربت رکھنے والے بعض وزراء نے اپنے رشتہ داروں کیلئے ٹکٹ کی مانگ کی ہے۔ پارٹی کی سنٹرل الیکشن کمیٹی کا اجلاس توقع ہے کہ 15 مارچ کو منعقد ہوگا جس میں دوسری فہرست کے ناموں کو قطعیت دی جائیگی۔ پارٹی نے 4 لوک سبھا حلقوں کیلئے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پارٹی ٹکٹ کیلئے مسابقت کو دیکھتے ہوئے ہائی کمان نے امیدواروں کے بارے میں ایک اور سروے کرنے کا فیصلہ کیا۔ کامیابی کی اہلیت رکھنے والے افراد کو امیدوار بنایا جائے گا۔ اسمبلی چناؤ میں کامیابی کے بعد لوک سبھا چناؤ چیف منسٹر ریونت ریڈی کیلئے چیلنج بن چکے ہیں۔ ریونت ریڈی نے 17 لوک سبھا حلقوں میں 13 پر کامیابی کا نشانہ مقرر کیا ہے۔ وہ لوک سبھا چناؤ میں بہتر مظاہرہ کے ذریعہ پارٹی میں ناقابل چیلنج لیڈر کے طور پر اُبھرنا چاہتے ہیں۔ پارٹی ہائی کمان نے انچارج تلنگانہ دیپاداس منشی کو عوامی نمائندوں اور تمام حلقہ جات کے قائدین سے مشاورت کی ہدایت دی ہے۔ دیپاداس منشی گزشتہ دو دنوں سے ضلع کانگریس صدور، ریاستی وزراء، ارکان اسمبلی اور گزشتہ اسمبلی چناؤ میں حصہ لینے والے امیدواروں کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے امکانی امیدواروں کے ناموں کا جائزہ لے رہی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ دیپا داس منشی آج رات یا کل تک اپنی رپورٹ ہائی کمان کو پیش کردیں گی۔ ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا کی اہلیہ کے علاوہ ریاستی وزراء پی سرینواس ریڈی اور تملا ناگیشور راؤ کے قریبی رشتہ دار کھمم لوک سبھا نشست کے لئے دعویدار ہیں۔ چیف منسٹر کے لئے اِن میں کسی ایک کی سفارش کرنا آسان نہیں ہوگا۔ بتایا جاتا ہے کہ دیپا داس منشی سے ملاقات کے دوران ریاستی وزراء نے اپنی اپنی دعویداری پیش کی۔ تلنگانہ کے انچارج سکریٹریز کے ہمراہ دیپا داس منشی نے تقریباً 6 لوک سبھا حلقوں کے امیدواروں کے بارے میں اپنی رائے طے کرلی ہے۔ اِسی دوران ٹکٹ کے خواہشمند قائدین نئی دہلی کا رُخ کررہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سنٹرل الیکشن کمیٹی کے اجلاس میں پارٹی سروے اور دیپا داس منشی کی رپورٹ کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف منسٹر کیلئے کافی دشوارکن رہے گا کہ وہ کن ناموں کی سفارش کریں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ بی آر ایس اور بی جے پی سے شمولیت اختیار کرنے والے بعض قائدین کو ٹکٹ کا اعلان ہوسکتا ہے۔ پارٹی نیجن 4 امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا ہے اُن میں سابق مرکزی وزیر بلرام نائک (محبوب آباد)، سریش کمار شیٹکر (ظہیرآباد)، سی ایچ ومشی چند ریڈی (محبوب نگر) اور کے رگھوویر ریڈی (نلگنڈہ) شامل ہیں۔ 13 لوک سبھا حلقوں کے لئے تقریباً 250 امیدواروں نے دعویداری پیش کی ہے یہ حلقہ جات سکندرآباد، چیوڑلہ، میدک، نظام آباد، کریم نگر، کھمم، بھونگیر، ورنگل، عادل آباد، پداپلی، ملکاجگری، ناگر کرنول اور حیدرآباد شامل ہیں۔ نظام آباد حلقہ کے لئے رکن کونسل جیون ریڈی اور سابق رکن اسمبلی انیل کمار کے درمیان مسابقت ہے۔ ناگر کرنول کے لئے ملو روی اور سمپت کمار نے دعویداری پیش کی ہے۔ 1