حیدرآباد۔/26 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) سیاسی جماعتوں کیلئے وقار کا مسئلہ بن جانے والے منوگوڑ ضمنی چناؤ کے نتائج پر مختلف گوشوں میں سروے اور تجزیہ کا آغاز ہوچکا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ منوگوڑ ضمنی چناؤ کے نتیجہ کا انحصار کانگریس پارٹی کی جانب سے حاصل کئے جانے والے ووٹوں پررہے گا۔ کانگریس پارٹی کو حاصل ہونے والے ووٹ نتیجہ پر اثر انداز ہوں گے۔ 3 نومبر کو منوگوڑ ضمنی چناؤ کی رائے دہی مقرر ہے اور تجزیہ نگاروں کے مطابق سہ رُخی مقابلہ میں کانگریس کی جانب سے حاصل کئے جانے والے ووٹ ہی نتائج کو تبدیل کردیں گے۔ اگر کانگریس پارٹی ووٹوں کا زائد فیصد حاصل کرتی ہے تو ایسی صورت میں بی جے پی کے امکانات کم ہوجائیں گے۔ اگر کانگریس پارٹی کامیاب نہ بھی ہو تو اس کا فائدہ ٹی آر ایس کو ہوگا۔ ٹی آر ایس اور بائیں بازو جماعتوں کے اتحاد کے باوجود کانگریس کو حاصل ہونے والے ووٹ نتیجہ پر زیادہ اثر انداز ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹی آر ایس نے انتخابی حکمت عملی کے طور پر ابھی سے یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ کانگریس پارٹی دوسرے نمبر پر رہے گی۔ اس طرح کے بیانات کے ذریعہ عوام کے ذہنوں میں یہ تاثر بٹھانے کی کوشش کی جائے گی کہ کانگریس کا موقف بہتر ہے جس کے نتیجہ میں کانگریس کو توقع سے زیادہ ووٹ حاصل ہوسکتے ہیں جس کا راست فائدہ ٹی آر ایس کو ہوگا۔ منوگوڑ کے رائے دہندوں کی اکثریت نے ابھی تک ووٹ کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے اور مبصرین کے مطابق رائے دہی سے ایک دن قبل عوام اپنے پسندیدہ امیدوار کا اظہار کرسکتے ہیں۔ 2018 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس، تلگودیشم اور بی جے پی کو 10 ہزار سے زائد ووٹ حاصل ہوئے تھے۔ کانگریس نے سروے کی بنیاد پر قائدین کو متحرک کرتے ہوئے بوتھ سطح پر کام کرنا شروع کردیا ہے۔ر