ادب کیجئے ہماری خاموشی کا …….. آپ کی منافقت کو چھپائے پھرتی ہے
تقررات اور تحفظات کے علاوہ کیا ملا ؟ ۔ بہت کچھ کھو دیا
حیدرآباد۔13جنوری(سیاست نیوز) کان خوش کرنے والے نعروں اور دل بہلانے والی باتوں سے 8 سال گذارنے والی حکومت اور اس کے اعلانات اور دل خوش کن وعدوں پر اعتماد کرنے والے سیاسی ‘مذہبی اور سماجی قائدین سے جسم امت سوال کر رہا ہے کہ درد کہاں کہاں سے اٹھے کیونکہ تحفظات ہی نہیں بلکہ بیشتر وعدوں کو فراموش کیا جاچکا ہے۔ 8 برسوں میں حکومت نے وعدوں کے تیر چلاتے ہوئے مسلمانوں کو جس طرح سے زخمی کیا ہے اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی کیونکہ ملک میں شائد ہی کوئی ایسی سیکولر حکومت ہوگی جس نے نہ صرف مسلم قائدین کو گمراہ کیا بلکہ مذہبی ‘ ملی و سماجی قائدین کو بھی اپنے دام میں گرفتار کرلیا ۔ تقررات کے معاملہ میں مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی صرف تحفظات کی حد تک نہیں ہے بلکہ حکومت کی جانب سے تمام طبقات کیلئے تلگو زبان میں مسابقتی امتحانات کی تربیت فراہم کی جا رہی ہے اور تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سروس کمیشن کے تمام امتحانات کی تربیت دی جا رہی ہے ۔ حکومت کی جانب سےT-SAT کے ذریعہ تلگو زبان میں مختلف لکچرس اور تربیتی کلاسس کے ذریعہ تلگو داں طبقہ کو مسابقتی امتحانات کیلئے تیار کیا جا رہاہے اور حکومت نے مؤثر اور کامیاب نمائندگی کے بعد اردو زبان میں مسابقتی امتحانات کی تحریر کی اجازت تو دے دی لیکن اردو زبان میں امتحانات تحریر کرنے والوں کیلئے کوئی تربیت کا انتظام کیا گیا اور نہ مسابقتی امتحانات بالخصوص گروپ II ‘ گروپIIIاور گروپIVکیلئے اردو میں کوئی نصاب تیار کرکے اردو داں طبقہ کو امتحانات کی تیاری میں مدد کی گئی ہے ۔ ریاست میں محکمہ ایس سی ‘ ایس ٹی ‘ بی سی کے علاوہ دیگر طبقات کیلئے ان محکمہ جات سے خصوصی تربیت فراہم کی جا رہی ہے لیکن محکمہ اقلیتی بہبود سے اس خصوص میں کوئی اقدامات نہیں کئے گئے اور نہ ان اقدامات کیلئے کوئی عہدیدار موجود ہے حالانکہ اردو میں امتحان لکھنے والوں کی اکثریت مسلمانوں کی ہے مگر ان کی تیاریوں کیلئے کوئی اقدامات نہ کئے جانے کے سبب اقلیتی برادری میں مایوسی پائی جاتی ہے ۔مسلمانوں کی ترقی و خوشحالی کے خواب دیکھنے اور دکھانے والے تمام قائدین کی اس مسئلہ پر بھی مکمل خاموشی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ حکومت کے دباؤ میں ہیں یا پھر نہیں چاہتے کہ امت مسلمہ کے نوجوان مسابقتی دوڑ میں آگے آکر ملازمتیں حاصل کریں اور دیگر اقوام کے ساتھ ترقی کو یقینی بنائیں۔ حکومت سے تلگو میں T-SAT کے ذریعہ تلگو امیدواروں کی تربیت کا جو انتظام کیا گیا اس سے لاکھوں افراد نے استفادہ کیا لیکن اردو داں طبقہ کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے اور نہ ہی محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے کسی دلچسپی کا مظاہرہ کیا گیا اور نہ ہی تلنگانہ اردو اکیڈیمی نے اس خصوص میں کوئی مواد تیار کرنے اقدام کئے جبکہ T-SATنے تلگو داں طبقہ کو مسابقتی امتحانات کی دوڑ میں آگے رکھنے انہیںتمام مسابقتی امتحانات کی تربیت فراہم کرنے کیلئے یوٹیوب ویڈیو کے علاوہ تمام عصری سہولتوں سے استفادہ کیا اور امت مسلمہ کے نوجوانوں کیلئے اقلیتی اسٹڈی سرکل ہونے کے باوجود ان کی تربیت کیلئے کوئی پیشرفت عمل میں نہیں لائی گئی ۔ حکومت کی متعلق مسائل سے اس بے اعتنائی کیلئے ذمہ دار کون ہیں! کیا حکومت کو مسلم اداروں یا ذمہ داروں کی جانب سے توجہ دلائی گئی اگر دلائی گئی تو حکومت نے اقدامات کیوں نہیں کئے ! ملک میں فرقہ پرستی کے اس دور میں شمالی ریاستوں میں ناانصافیوں پر تو ہر کوئی بول رہا ہے لیکن جنوبی ریاست تلنگانہ میں حکومت کی لاپرواہی اور ایک مخصوص طبقہ سے متعلق رویہ حیرت کا باعث بنا ہوا ہے ۔ مسلم جماعتیں و قائدین اگر اس پر مزید خاموشی اختیار کرتے ہیں اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے مسلمانوں کے مسائل ‘انہیں سماجی انصاف کی فراہمی کیلئے آواز نہیں اٹھائی جاتی ہے تو تلنگانہ میں مسلمان آئندہ 5 سال میں تعلیمی ‘ معاشی اور سماجی پسماندگی کا شکار ہوجائیں گے کیونکہ جو مواقع دیگر اقوام کو فراہم کئے جا رہے ہیں اسی طرز پر مسلمانوں کو مواقع فراہم کرنے میں کوتاہی پر امت کی خاموشی آئندہ نسلوں کی تباہی کا سبب بن رہی ہیں اور افسوس سے کہنا پڑرہا ہے کہ تقررات میں تحفظات اور تربیت کے معاملہ میں مسلمانوں اور اردو کے ساتھ امتیاز کے باوجود مسلمانوں کی خاموشی یہ تاثر دے رہی ہے کہ انہیں اب سرکاری ملازمتوں کی ضرورت باقی نہیں رہی اور وہ نہیں چاہتے کہ ان مسابقتی امتحانات کا حصہ بنیں۔م