کاکروچ جنتا پارٹی کا آج پارلیمنٹ تک مارچ

,

   

ملک بھر سے طلبااور نوجوانوں کی کثیر تعداد میں شرکت متوقع، اجازت نہیں دی گئی : پولیس

نئی دہلی۔19؍جولائی ( ایجنسیز) ملک میں امتحانی نظام میں اصلاحات، پرچہ لیک کے واقعات پر سخت کارروائی اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبہ کو لے کر دہلی کے جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شدت آ گئی ہے۔ احتجاج کرنے والی تنظیم کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے پیر 20 جولائی کو پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے دن پارلیمنٹ مارچ کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق جنتر منتر پر جاری دھرنا جاری ہے جبکہ معروف سماجی کارکن سونم وانگ چوک کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال 20ویں دن میں داخل ہوئی تھی کہ پولیس نے انہیں زبردستی صفدر جنگ ہاسپٹل میں منتقل کردیا۔سی جے پی کے بانی ابھجیت دیپکے نے کہا کہ 20 جولائی کا مارچ کسی ایک تنظیم کا پروگرام نہیں ہوگا بلکہ اس میں ملک بھر سے طلبہ، نوجوان، اساتذہ، والدین اور تعلیمی نظام میں شفافیت کے حامی افراد شرکت کریں گے۔ ان کے مطابق اس مارچ کا مقصد پارلیمنٹ اور حکومت تک طلبہ کی آواز پہنچانا اور امتحانی نظام میں جامع اصلاحات کا مطالبہ کرنا ہے۔ پارلیمنٹ مارچ کی تیاریوں کے تحت تنظیم نے 7011670115 ہیلپ لائن نمبر جاری کیا جہاں دلچسپی رکھنے والے افراد مسڈ کال دے کر اپنی شرکت درج کرا سکتے ہیں۔دیپکے نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد یہ جاننا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں سے کتنے لوگ احتجاج میں شامل ہونے کیلئے دہلی آ رہے ہیں۔ احتجاج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں مختلف سرکاری امتحانات میں بار بار پرچہ لیک کے واقعات نے لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل غیر یقینی بنا دیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ امتحانی نظام کو شفاف بنانے، ذمہ داروں کو سخت سزا دینے اور طلبا کے مستقبل کے تحفظ کے لیے فوری اصلاحات کی جائیں۔دہلی پولیس نے اتوار کے روز اس بات کا اعادہ کیا کہ اس نے 20 جولائی کو کاکروچ جنتا پارٹی کے پارلیمنٹ تک مجوزہ مارچ کی نہ تو اجازت حاصل کی ہے اور نہ ہی اجازت دی ہے۔ پولیس نے انتباہ دیا ہیکہ غیر مجاز جلوس میں شرکت کرنے والوں کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ دوسری طرف دہلی کی ٹریفک پولیس نے پارلیمنٹ اجلاس اور کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے پیش نظر ٹریفک تحدیدات اور اڈوائزری جاری کی ہے۔