انقلاب صبح کی کچھ کم نہیں یہ بھی دلیل
پتھروں کو دے رہے ہیں آئینے کھل کر جواب
آن لائین جہد کاری پلیٹ فارم کاکروچ جنتا پارٹی نے انٹرنیٹ پر تہلکہ مچانے کے بعد اب عملی طور پر احتجاج کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ حالانکہ یہ کوئی باضابطہ سیاسی جماعت نہیں ہے لیکن اس آن لائین پلیٹ فارم سے دو کروڑ سے زائد لوگ جڑ گئے ہیں اور اس کے ارکان کی تعداد ملک کی تقریبا تمام سیاسی جماعتوں کے ارکان کی تعداد سے زیادہ ہوگئی ہے۔ نوجوانوں کے تعلق سے چیف جسٹس آف انڈیا کے کچھ ریمارکس کو بنیاد بناتے ہوئے یہ آن لائین پلیٹ فارم کاکروچ جنتا پارٹی شروع کیا گیا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کو کروڑوں افراد نے پسند کیا اور اس کی رکنیت حاصل کی تھی ۔ ملک میں امتحانی پرچوں کے خلاف سب سے پہلے مسئلہ کے طور پر اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت ڈپکے نے ایک پوسٹ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ امریکہ سے ‘ جہاں وہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں ‘ 6 جون کو ہندوستان واپس ہونگے اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفی کا مطالبہ کرتے ہوئے دہلی کے جنتر منتر پر دھرنا منظم کیا جائے گا ۔ ان کا دعوی ہے کہ دھرمیندر پردھان سے استعفی کے حق میں ملک بھر جملہ آٹھ لاکھ افراد نے دستخط کئے ہیں ۔ یہ دستخطی مہم بھی آن لائین شروع کی گئی تھی ۔ اس سے تقریبا آٹھ لاکھ افراد نے اتفاق کیا اور دستخط کئے ہیں۔ اب کاکروچ جنتا پارٹی پہلی مرتبہ میدان پرا ترنے کی تیاری کر رہی ہے اور دھرمیندر پردھان سے استعفی کے مطالبہ پر جنتر منتر پر دھرنے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے آن لائین فروغ سے ہی کئی سیاسی جماعتوں کی نیندیں اڑنے لگی تھیں۔ برسر اقتدار جماعت کے حاشیہ برداروں کی جانب سے اس پر تنقیدیں بھی شروع ہوگئی ہیں اور اس مسئلہ کو عدالت سے بھی رجوع کرنے کیلئے پہل کی گئی ہے ۔ تاہم ابھی اس پر کوئی منظم رد عمل کسی کا سامنے نہیں آیا ہے ۔ اب جبکہ یہ جہد کار میدان میں اترنے کا اعلان کر رہے ہیں تو یقینی طور پر اس پر رد عمل سامنے آسکتا ہے ۔ دہلی کے جنتر منتر پر اس کا جو احتجاج ہونے والا ہے وہ کئی اعتبار سے اہمیت کا حامل ہوسکتا ہے ۔
اس پلیٹ فارم کے بانی ابھیجیت ڈپکے نے اعلان کیا ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی پہونچیں گے ۔ انہوں نے پارٹی سے آن لائین جڑے ہوئے افراد سے خواہش کی ہے کہ ان سے ائرپورٹ پر ملاقات کی جائے ۔ ایک طرح سے ائرپورٹ پر ایک بڑا مجمع جمع ہونے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے ۔ ابھیجیت ڈپکے کے مطابق ائرپورٹ سے سارے نوجوان پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن جائیں گے اور پھر جنتر منتر پر دھرنا منظم کرنے کی اجازت طلب کریں گے ۔ ابھیجیت نے اپنے شیڈول کا ایک طرح سے اعلان کردیا ہے اور انہوں نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفی کا جو مطالبہ رکھا ہے وہ بھی نوجوانوں سے متعلق ہی ہے ۔ صرف ایک نیٹ امتحان کا پرچہ لیک ہونے کی وجہ سے بائیس لاکھ سے زائد نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے اور انہیں دوبارہ امتحان تحریر کرنا پڑے گا ۔ ان کے افراد خاندان الگ سے دباؤ کا شکار ہیں۔ کچھ امیدواروں نے تو پرچہ کے افشاء کے بعد خودکشی تک کرلی ہے جو اپنے خاندان کیلئے سہارا بننے والے تھے ان کے ہی خاندان بے سہارا رہ گئے ہیں۔ اس سارے معاملہ کی کسی نہ کسی پر تو ذمہ داری عائد کی جانی چاہئے اور وزیر تعلیم بھی اس سے بری الذمہ نہیں ہوسکتے ۔ نیٹ کے پیپر لیک کے علاوہ سی بی ایس ای کے امتحانات میں بھی کچھ بدعنوانیوں کے الزامات سامنے آئی ہیں اس کے علاوہ CUET-UG امتحان میں بھی تکنیکی خرابی کی وجہ سے تاخیر ہوئی تھی ۔ یہ طلباء اور نوجوانوں سے متعلق مسائل ہیں۔
کروڑوں افراد کی آن لائین تائید حاصل کرنے کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی پہلی مرتبہ میدان پر اتر کر احتجاج کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور اپنے ارادوں کو واضح بھی کردیا ہے تو دیکھنا یہ ہے کہ آیا پارٹی کے اعلان کو کتنی تائید حاصل ہوتی ہے ۔ کتنے نوجوان اور جہد کار ہونگے جو اس احتجاج کا حصہ بننے جنتر منتر جائیں گے ۔ حالانکہ اس احتجاج کو روکا ضرور جائے گا ۔ اس کی اجازت بھی شائد نہیں دی جائے گی تاہم سی جے پی چونکہ پہلی مرتبہ عملی میدان میں آنے کی تیاری کر رہی ہے تو اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔اس ایک احتجاج کے بعد ایک طرح سے کئی مسائل پر احتجاج کی راہ ہموار ہوسکتی ہے ۔