کثرت ازدواج اور حلالہ کو چیلنج کرنے والی عرضی

   

پر 5 ججوں کی نئی بنچ کرے گی سماعت
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعہ (20 جنوری) کے روز ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں میں کثرت ازواج اور نکاح حلال رسم کو آئینی چیلنج پیش کرنے والی عرضیوں پر پانچ ججوں کی بنچ سماعت کرے گی۔ اس معاملے پر پی آئی ایل داخل کرنے والوں میں سے ایک وکیل اشونی اپادھیائے کی طرف سے داخل جواب پر چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس پی ایس نرسمہا نے کہا کہ اس سلسلے میں پانچ ججوں کی ایک نئی بنچ تشکیل دی جائے گی۔ دراصل پرانی آئینی بنچ کے دو جج جسٹس اندرا بنرجنی اور جسٹس ہیمنت گپتا سبکدوش ہو چکے ہیں، اس لیے بنچ کی از سر نو تشکیل کا فیصلہ کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ سال اشونی اپادھیائے کی طرف سے سپریم کورٹ میں کثرت ازواج اور نکاح حلال کے خلاف عرضی داخل کی گئی تھی۔اس پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا کہ پانچ ججوں کی بنچ کے پاس مزید کئی اہم معاملہ زیر التوا ہیں۔ ہم مزید ایک آئینی بنچ کی تشکیل کر رہے ہیں اور اس معاملے کو دھیان میں رکھیں گے۔