ملازمتوں اور کنٹراکٹس میں چار فیصد تحفظات کے بعد امکنہ اسکیم میں 15 فیصد حصہ داری
حیدرآباد۔20۔جون(سیاست نیوز) کابینہ میں مسلم نمائندگی سے قوم کو حاصل ہونے والے فائدوں کا مشاہدہ کرنا ہوتو پڑوسی ریاست کرناٹک میں کانگریس حکومت کی جانب سے مسلمانوں کو فراہم کئے جانے والے تحفظات بالخصوص تعلیم اور ملازمتوں میں 4 فیصد تحفظات کے علاوہ سرکاری کنٹراکٹس میں 4 فیصد مسلمانو ںکو تحفظات کی فراہمی کے بعد اب کانگریس حکومت نے امکنہ اسکیم میں مسلمانوں کو 15 فیصد تحفظات کی فراہمی کے اقدامات کو یقینی بنانے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ سیاسی جماعتو ںمیں مسلم قائدین جو کہ مسلمانو ںکے درمیان پہنچ کر اپنی پارٹی کے موقف کو بیان کرتے ہوئے انہیں پارٹی سے قریب کرنے کی کوشش کر تے ہیں اگر ان کے بجائے مسلم قائدین اپنی پارٹیوں اور حکومت میں قوم کی نمائندگی کرنا شروع کرتے ہیں تو ایسی صورت میں حکومتوں کو مجبور کیا جاسکتا ہے اور یہ بات کرناٹک میں مسلمانوں نے ثابت کردی ہے۔ حکومت کرناٹک نے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد نہ صرف 3 مسلمانوں کو کابینہ میں نمائندگی فراہم کی بلکہ چیف منسٹر سدا رامیا کی حکومت نے 2 کروڑ سے کم مالیت کی تخمینی لاگت کے سیول کنٹراکٹس جو حکومت کی جانب سے فراہم کئے جاتے ہیں ان میں 4 فیصد کنٹراکٹس مسلم کنٹراکٹرس کو دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے ریاستی کابینہ کی جانب سے منظوری دی گئی ہے ۔ اسی طرح گذشتہ دنوں ریاستی وزیر اقلیتی بہبود جناب بی زیڈ ضمیر احمد نے مسلم تنظیموں کے نمائندوں کے ہمراہ چیف منسٹر سدا رامیا سے ملاقات کی تھی اور اس کے بعد ریاستی حکومت کی جانب سے امکنہ اسکیم میں مسلمانوں کو 15 فیصد تحفظات کی فراہمی کے اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے اسے منظوری دی گئی ہے۔کرناٹک ریاستی حکومت کی جانب سے ریاستی حکومت کی امکنہ اسکیم جس میں غریب مستحق عوام کو مکانات فراہم کئے جاتے ہیں ان میں اب 15فیصد مسلمانوں کو لازمی طور پر مکانات کی فراہمی عمل میں لائی جائیگی۔مسلمانوں کے متحدہ ووٹوں کے استعمال کے بعد ریاست کرناٹک میں حکومت کی جانب سے مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ اور انہیں سرکاری مراعات کی فراہمی کیلئے جو اقدامات کئے ہیں وہ قابل ستائش ہیں اور حکومت کرناٹک میں شامل مسلم وزراء محض اقتدار میں رہتے ہوئے خاموش تماشائی نہیں ہیں اور نہ ہی عوام کے درمیان حکومت کے موقف کی وضاحت پیش کرتے ہوئے اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں بلکہ وہ مسلمانوں کی حکومت میں نمائندگی کرتے ہوئے ان کے مفادات کے تحفظ کے علاوہ انہیں سرکاری اسکیمات سے فوائد پہنچانے میں کئی اہم اقدامات کررہے ہیں جس کے نتیجہ میں کرناٹک کانگریس کو مسلمانوں کی تائید حاصل ہورہی ہے اور ہندوتوا تنظیمیں حکومت کرناٹک کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہی ہیں جبکہ تلنگانہ میں ہندتوا تنظیموں کی جانب سے ریاستی کانگریس حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کا خیر مقدم کیا جا رہاہے اور حکومت کی ستائش کی جانے لگی ہے بلکہ قومی سطح پر تمام ریاستوں میں گھوم کرمسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے والے رکن اسمبلی راجہ سنگھ بھی تلنگانہ کانگریس حکومت کی ستائش کرتے ہوئے چیف منسٹر کے گاؤ رکھشا کیلئے کئے جانے والے اقدامات کی ستائش کررہے ہیں اور حکومت کی جانب سے رضاکار فلم کو ایوارڈ دیئے جانے پر بھارتیہ جنتا پارٹی قائدین میں خوشی کی لہر پائی جانے لگی ہے اور کہا جار ہاہے کہ ریاست تلنگانہ میں کانگریس حکومت کے اقدامات قابل ستائش ہیں۔پڑوسی ریاست کرناٹک میں کانگریس حکومت کی جانب سے مسلمانوں کو 4فیصد تحفظات کی فراہمی کے علاوہ کنٹراکٹس میں 4 فیصد تحفظات کی فراہمی کے بعد اب امکنہ اسکیم میں 15 فیصد تحفظات کی فراہمی کے ذریعہ کرناٹک حکومت اپنی ریاست کے مسلمانوں کی جامع ترقی کو یقینی بنانے کے اقدامات کر رہی ہے تاکہ انتخابات کے دوران مسلمانوں نے جو پارٹی کا ساتھ دیا تھا اس کا بہترین بدل انہیں دیا جاسکے اور کنٹراکٹس میں تحفظات کی فراہمی کے ذریعہ مسلمانو ںکی معیشت کو بہتر بنایا جاسکے۔3