کرناٹک میں ایس آئی آر سے قبل کانگریس کے سوالات کا جواب دیا جائے

   

ریاست کے وزیر داخلہ پریانک کھرگے کا بیان ۔ رائے دہندوں کے حقوق کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہئے
بنگلورو: (ایجنسیز) کرناٹک کے وزیر داخلہ پریانک کھرگے نے آج الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ ریاست میں خصوصی جامع نظرثانی (SIR) شروع کرنے سے پہلے کانگریس کے سوالات کے جواب دیے جائیں۔بنگلورو میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پریانک کھرگے نے کہا کہ کانگریس نے اس معاملے پر اپنے تحفظات تحریری طور پر الیکشن کمیشن کو بھیجے ہیں، لیکن اب تک کوئی جواب نہیں ملا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو پہلے کانگریس کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دینا چاہیے، اس کے بعد کرناٹک میں ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کا عمل شروع کیا جانا چاہیے۔ الیکشن کمیشن یکم جولائی سے خصوصی جامع نظرثانی مہم شروع کرنے جا رہا ہے، جس کے تحت 29 جون سے 29 جولائی تک گھر گھر جا کر ووٹروں کی تصدیق کی جائے گی۔ کرناٹک کے چیف الیکٹورل آفیسر وی انبو کمار بھی اس سلسلے میں پریس کانفرنس کریں گے۔دوسری جانب کانگریس نے ریاست بھر میں بیداری مہم شروع کر دی ہے اور اپنے کارکنوں سے ووٹر فہرست کی نظرثانی کے دوران چوکس رہنے کی اپیل کی ہے۔پریانک کھرگے نے کہا کہ کانگریس نے الیکشن کمیشن کے سامنے آٹھ سے دس سوالات اٹھائے ہیں، جن میں منطقی تضاد (Logical Discrepancy) کی تعریف اور ووٹر کا نام فہرست سے خارج کرنے کے معیار سے متعلق سوالات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی ووٹر کا نام فہرست سے ہٹایا جاتا ہے تو اسے قانونی نوٹس دیا جانا چاہیے، اس کے بعد باقاعدہ حکم نامہ جاری ہونا چاہیے اور متاثرہ شخص کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔انہوں نے زور دیا کہ صرف ہجے کی غلطی یا نام میں معمولی فرق کی بنیاد پر کسی شہری کا حقِ رائے دہی ختم نہیں کیا جا سکتا۔پریانک کھرگے نے ووٹر فہرست کی نظرثانی میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر بھی سوال کیا اور کہا کہ اگر اے آئی سافٹ ویٔر کے ذریعے ووٹروں کے نام حذف کیے جا رہے ہیں تو اس سافٹ ویٔر کا آڈٹ کس نے کیا اور یہ کس بنیاد پر کام کرتا ہے، اس پر کوئی شفافیت نہیں ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ کانگریس ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے خلاف نہیں ہے بلکہ وہ صرف شفافیت اور ضمانت چاہتی ہے کہ کسی بھی اہل ووٹر کا نام غلطی سے فہرست سے خارج نہ ہو۔پریانک کھرگے نے کہا کہ اس معاملے پر چیف منسٹر ڈی کے شیوکمار سے مشاورت کے بعد آئندہ کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔