اپنی شادی میں مسلم دوستوں کی عدم شرکت پر ہندو نوجوان کا مثالی اقدام ، مسجد کمیٹی نے نو بیاہتا جوڑے کو تہنیت پیش کی
حیدرآباد ۔ 28 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : مذہبی طور پر حساس علاقہ کہلانے والا جنوبی کنڑا ضلع میں نو شادی شدہ ہندو نوجوان نے ایک مسجد میں افطار پارٹی کا اہتمام کرتے ہوئے مذہبی روا داری کا ثبوت پیش کیا ہے ۔ کرناٹک کے جنوبی کنڑا ضلع کے بنٹوال تعلقہ میں واقع وٹل شہر میں چندر شیکھر نامی نوجوان کی 24 اپریل کو شادی ہوئی ۔ ماہ رمضان کے باعث اس کے بہت سارے مسلم دوست شادی اور استقبالیہ میں شرکت نہیں کرپائے ۔ جس کی وجہ سے چندر شیکھر نے اپنے مسلم دوستوں کے لیے مسجد میں ہی افطار پارٹی کا اہتمام کیا ۔ حالیہ چند دنوں سے کرناٹک میں حجاب ، حلال ، لاؤڈ اسپیکر پر اذان پر تنازعہ پیدا کیا ۔ منادر اور جاترا کے پاس مسلم تاجرین کو دوکانات لگانے کی اجازت نہ دینے اور مسلمانوں کی دوکانات کا بائیکاٹ کرنے کی ہندو تنظیموں کی جانب سے اپیل کرنے کے تناظر میں چندر شیکھر کی جانب سے افطار پارٹی کا اہتمام کرنے کو گنگا جمنی تہذیب کی علامت قرار دیا جارہا ہے ۔ حجاب پر پابندی ، مسلم تاجرین کا بائیکاٹ ، شیموگہ میں بجرنگ دل کارکن ہرش کا قتل ، حلال گوشت پر پابندی سے کرناٹک میں مذہبی کشیدگی پیدا ہوئی ہے ۔ ایسے سنگین حالت کے دوران مسلمانوں کے لیے افطار پارٹی کا اہتمام کرنے پر سب چندر شیکھر کی ستائش کررہے ہیں ۔ افطار پارٹی اور ڈنر کے بعد جلالیہ جامع مسجد کے امام اور مسجد کمیٹی کے ارکان نے نوبیاہتا جوڑے کو تہنیت پیش کی۔ افطار اور ڈنر میں شریک ہونے والے مسلمانوں نے چندر شیکھر اور ان کی اہلیہ کو مبارکباد پیش کی ۔۔ ن