آزمائش کا وقت ہی بتا دیتا ہے
کہ خیرخواہ کون ہے اور خواہ مخواہ کون ہے
ویسے تو سارے ملک میں ایس آئی آر کے دوران ووٹرس کی تنقیح یا ان کے ناموں کی شمولیت سے زیادہ ناموں کو حذف کرنے پر خاص توجہ دی جا رہی ہے اور تاحال جن جن ریاستوں میں ایس آئی آر کا عمل مکمل ہوگیا ہے ان میں 13 کروڑ سے زائد رائے دہندوں کے نام حذف کردئے گئے ہیں تاہم ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی کی جانب سے کرناٹک پر خاص توجہ دی جا رہی ہے اور جن افراد کے نام مسودہ ووٹر لسٹ میں شامل کئے گئے ہیں ان کو بھی حذف کروانے کیلئے مہم شروع کی گئی ہے ۔ یہ ایک بڑا اسکام نظر آتا ہے کیونکہ اس تعلق سے حیرت انگیز انکشافات ہو رہے ہیں۔ یہ مسئلہ اس قدر سنگین نوعیت کا ہوگیا ہے کہ کرناٹک کے چیف منسٹر مسٹر ڈی کے شیوکمار نے خود الیکشن کمیشن کے ریاستی دفتر پر پہونچ کر سٹ ان احتجاج کیا ۔ رپورٹس میں یہ حقیقت منظر عام پر آئی تھی کہ بی جے پی کے کارکنوں کی جانب سے فارم 7 داخل کرتے ہوئے فہرست میں شامل ووٹرس کے ناموں پر اعتراضات کئے جا رہے ہیں اور ان ناموں کو حذف کرنے کی درخواست کی جا رہی ہے ۔ ان میں بیشتر نام مسلم رائے دہندوں کے ہیں ۔ اس طرح سے یہ بات و اضح ہوگئی ہے کہ بی جے پی بالواسطہ طور پر ملک میں مسلمانوں کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کے منصوبے پر عمل کر رہی ہے اور اس کیلئے باضابطہ مہم اعلان کرنے کی بجائے بالواسطہ اقدامات کئے جا رہے ہیں اور اپنے کارندوں کو یہ ذمہ داری سونپتے ہوئے خاموشی سے یہ سازش کی جا رہی ہے ۔ بی جے پی کی یہ کوششیں سماج میں نفاق پھیلانے کی کوشش کے علاوہ مسلمانوں کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کی سازش بھی کہی جاسکتی ہیں۔ یہ کسی ایک کارکن کی اپنی جانب سے کی جانے والی کوشش نہیں بلکہ منظم انداز میں پہلے سے کی جا رہی سازش ہے کیونکہ فارم 7 پہلے سے پرنٹ کروا کر رکھے جانے کا ویڈیو بھی منظر عام پر آگیا ہے ۔ اس سے جہاں بی جے پی کے عزائم بالکلیہ طورپر واضح ہوجاتے ہیں وہیں الیکشن کمیشن کے رول پر بھی کئی سوال پیدا ہونے لگے ہیں ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بی جے پی کو یہ فارم 7 پہلے سے دستیاب کیسے ہوئے ۔ انہیں یہ فارم پرنٹ کرواتے ہوئے کس نے فراہم کئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے مسودہ ووٹر لسٹ میں شامل ناموں کی تفصیلات ان تمام کارکنوں تک کس طرح سے اور کس کے ذریعہ پہونچی ہے ۔ یہ تمام سوالات ایسے ہیں جو سنگین نوعیت کے ہیں اور ان تمام کی جانچ کی جانی چاہئے ۔ مکمل تحقیقات کرتے ہوئے فارمس فراہم کرنے والوں ‘ تفصیلات کا افشاء کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کئے جانے چاہئیں۔ فوجی کارروائی ہونی چاہئے اور اس سارے عمل کو مسترد کیا جانا چاہئے ۔ چیف منسٹر ڈی کے شیوکمار نے دھرنا کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ جو فارم 7 کثیر تعداد میں فراہم کئے گئے ہیں ان کی تحقیقات کی جانی چاہئے اور الیکشن کمیشن کو گمراہ کن اور غلط اطلاعات فراہم کرنے والوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کئے جانے چاہئیں۔ کرناٹک میں ہونے والی اس سازش نے سارے جمہوری عمل کو کھوکھلا کرنے کے منصوبے کو واضح کردیا ہے اور ایس آئی آر کے عمل کے علاوہ الیکشن کمیشن کے عملہ اور بی جے پی کے عزائم پر کئی سوالات پیدا ہوگئے ہیں اور ملک کے عوام کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بی جے پی کی جانب سے ووٹرس کو ان کے حق رائے دہی سے محروم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور وہ خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف جامع اور منظم سازش رچی ہوئی ہے اور اس پر عمل درآمد کی کوشش کی جا رہی ہے ۔
حالانکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے کرناٹک میں ان واقعات کے خلفا تحقیقات سے اتفاق کیا گیا ہے اور تین افراد کے خلاف بہت زیادہ فارم 7 داخل کرنے پر ایف آئی آر بھی درج ہوئی ہے تاہم یہ کارروائی کافی نہیں ہے ۔اس سارے معاملے کی مکمل اور جامع تحقیقات کروائی جانی چاہئیں ۔ فارم 7 داخل کرنے والے افراد کی نشاندہی کرکے ان سے پوچھ تاچھ کی جانی چاہئے ۔ ان کے عزائم کا پتہ چلانا چاہئے اور ان کو مواد فراہم کرنے اور پشت پناہی کرنے والوں کو بھی بے نقاب کرکے کارروائی کی جانی چاہئے ۔