حکومت کے خلاف گورنر کے استعمال کا اندیشہ،مرکز سے ٹکراؤ سے بچنے میونسپل ایکٹ پر گورنر کے اعتراضات قبول
کانگریس اور تلگو دیشم کے اہم قائدین پر بی جے پی کی نظر
حیدرآباد۔24 ۔ جولائی (سیاست نیوز) جنوبی ہند میں کانگریس۔ جے ڈی ایس کی واحد حکومت کے زوال کے بعد بی جے پی کا اگلا نشانہ تلنگانہ ہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ مجوزہ بلدی انتخابات کو پیش نظر رکھتے ہوئے پارٹی متحرک ہوچکی ہے اور حکومت کے خلاف ریاستی گورنر کو استعمال کرنے کا منصوبہ ہے۔ تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد سے گورنر ای ایس ایل نرسمہن نے کے سی آر حکومت کے کسی بھی فیصلہ پر اعتراض نہیں جتایا اور اسمبلی میں منظورہ تمام بلز کو قانونی شکل دینے میں مدد کی لیکن گزشتہ دنوں میونسپل ایکٹ کو گورنر نے جس طرح واپس کردیا، اس سے بی جے پی کے منصوبوں کا واضح طور پر اشارہ ملتا ہے۔ بی جے پی کے ذرائع اس بات کو تسلیم کر رہے ہیں کہ وزیر داخلہ امیت شاہ کی تلنگانہ پر خصوصی توجہ ہے اور ان کا نشانہ 2023 ء اسمبلی انتخابات پر ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ ای ایس ایل نرسمہن کو میعاد کی تکمیل کے باوجود محض اسی لئے عہدہ پر برقرار رکھا گیا کہ وہ مرکز کی ایماء پر کے سی آر حکومت کیلئے مسائل پیدا کریں ۔ بی جے پی کے اس منصوبہ سے کے سی آر حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔ دوسری طرف برسر اقتدار پارٹی میونسپل ایکٹ کو واپس کئے جانے پر حیرت زدہ ہے، انہیں ای ایس ایل نرسمہن سے اس طرح کے فیصلہ کی امید نہیں تھی۔ گزشتہ پانچ برسوں میں تلنگانہ میں کئی سنگین مسائل درپیش ہوئے اور اپوزیشن نے گورنر سے نمائندگی کی لیکن کسی ایک معاملہ میں بھی گورنر نے اپنے اختیارات کا استعمال نہیں کیا۔ میونسپل ایکٹ کے خلاف بی جے پی قائدین کی نمائندگی کے فوری بعد گورنر نے بل کو منظوری کے بغیر واپس کردیا۔ حکومت جو اسمبلی میں اپوزیشن کی ترمیمات کو قبول کرنے تیار نہیں تھی، اسے گورنر کی پیش کردہ ترمیمات کو قبول کرنا پڑا اور فوری طور پر ترمیمات کے ساتھ آرڈیننس جاری کردیا گیا۔ کے سی آر حکومت موجودہ حالات میں مرکز سے کوئی ٹکراؤ نہیں چاہتی، لہذا حکومت نے بل کو دوبارہ گورنر کو واپس نہیں کیا۔ قواعد کے مطابق اگر حکومت کسی تبدیلی کے بغیر بل کو دوبارہ گورنر کے پاس بھیجتی ہے تو گورنر کو منظوری دینے کے سواء کوئی چارہ نہیں رہتا۔ کے سی آر چاہتے تو بل کو موجو دہ حالت میں گورنر کو دوبارہ روانہ کرسکتے تھے لیکن انہوں نے آئندہ کے مسائل سے بچنے کیلئے ٹکراؤ سے گریز کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی قائدین نے امیت شاہ سے خواہش کی ہے کہ حکومت کی روز مرہ کی کارکردگی اور فیصلوں کے سلسلہ میں گورنر کی مداخلت کو یقینی بنایا جائے۔