کرنسی تنسیخ کے بعد مرکزی حکومت کے اقدامات سے کوئی فائدہ نہیں

   

مالی سال 2024-25 کے دوران جعلی کرنسی میں 37.35 فیصد اضافہ : آر بی آئی
حیدرآباد۔30۔مئی ۔(سیاست نیوز) ملک میںمالی سال 2024-2025کے دوران جعلی کرنسی کی تعداد میں 37.35 فیصد فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے منظر عام پر آنے کے بعد یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے کرنسی تنسیخ کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا جبکہ حکومت کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا مرکزی حکومت نے ملک میں جعلی کرنسی کے فروغ کو روکنے کے اقدامات کے طور پر کرنسی تنسیخ کا فیصلہ کیا تھا علاوہ ازیں وزیر اعظم نریندر مودی نے حکومت کے فیصلہ کا دفاع کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ملک بھر میں دہشت گردی پر قابو پانے اور جعلی کرنسی نوٹوں کے چلن کو کم کرنے کے لئے کئے گئے اس فیصلہ کے بعد دونوں ہی معاملات میں کمی آئے گی لیکن ان کا یہ دعویٰ غیر درست ثابت ہوا ۔ ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے جاری کی جانے والی رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ ملک میں جعلی نوٹوں کے چلن اور بینک کاری نظام میں شامل ہونے والے معاملات کی جانچ سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ جاریہ سال تاحال جملہ 1لاکھ 17ہزار 722 جعلی کرنسی پہنچی ہے جو کہ سال گذشتہ کے مقابلہ میں کم ہے ۔ سال گذشتہ یعنی 2024کے دوران جعلی کرنسی کی تعداد 85711 کرنسی ریکارڈ کی گئی تھی ۔ بتایاجاتا ہے کہ گذشتہ 6برسوں کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ 2020 کے بعد سے اب تک جعلی کرنسی جاریہ سال کے دوران ہی سسٹم میں شامل ہوپائی ہے۔رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025 کے دوران 2لاکھ 17ہزار396 جعلی کرنسی نوٹ پکڑے گئے ہیں جبکہ سال گذشتہ 2024 کے دوران 2لاکھ 22ہزار 639 کرنسی نوٹ پکڑے گئے ہیں۔500 روپئے کے جعلی کرنسی نوٹوں میں ہونے والے اضافہ کے سلسلہ میں کہا جا رہاہے کہ جعلی کرنسی نوٹوں میں بڑی نوٹ کا چلن زیادہ ہوتا ہے اور سال 2023 تک 2000 کے کرنسی نوٹوں کی بڑی تعداد بازار میں گشت کر رہی تھی لیکن 2023 میں 2000 کے کرنسی نوٹوں کو بند کرنے کے فیصلہ کے بعد 2000 کے جعلی کرنسی نوٹوں کی تعداد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ سال گذشتہ کے مقابلہ میں 500 کے جعلی کرنسی نوٹوں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے۔ 200 اور 100 روپئے کے بھی جعلی کرنسی نوٹ بازار میںگشت کررہے ہیں اور ان کرنسی نوٹوں کی تعداد کا آربی آئی کی جانب سے ریکارڈ اکٹھا کیاجارہاہے۔3