ممبئی ۔ مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملہ میں آج اس وقت بڑی پیش رفت ہوئی جب بم دھماکہ متاثرین نے قومی تفتیشی ایجنسی NIAسے گذارش کی کہ وہ منحرف گواہ (سبکدوش آرمی افسر) کو اس مقدمہ میں ملزم بنائے اور اس پر بھی سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر اور کرنل پروہت کے ساتھ مقدمہ چلایا جائے کیونکہ اس نے عدالت میں ملزم کرنل پروہت کو بچانے کے لیئے جھوٹی گواہی دی ہے ۔ بم دھماکہ متاثرین کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ شاہد ندیم(جمعیۃ علماء مہاراشٹر ارشد مدنی) نے سپرنٹنڈنٹ آف پولس NIA, مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملہ تحقیقاتی افسراور خصوصی وکیل استغاثہ کو خط لکھ کر ان سے درخواست کی ہیکہ گواہ نمبر208 شلیش شنکر رائیکرکے خلاف کریمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 319 کے تحت کارروائی کرکے اسے بھی ملزم بنایا جائے کیونکہ دوران گواہی جس طرح کا اس نے انکشاف کیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہیکہ وہ ملزم کرنل پروہت کی جانب سے بلائی گئی بم دھماکوں کی سازشی میٹنگ میں شریک ہوا تھا اور اسے خفیہ میٹنگوں کی مکمل جانکاری تھی اس کے باوجود اس نے بم دھماکہ روکنے کی کوشش نہیں کی۔ ایڈوکیٹ شاہد ندیم کی جانب سے تحریر کردہ خط میں مزید لکھا گیا ہیکہ ملزم کرنل پروہت آرمی افسر شلیش شنکر رائیکرکی زیر نگرانی کام کرتا تھا اور اس نے ابھینو بھارت نامی تنظیم کی میٹنگوں میں نہ صرف شرکت کی تھی بلکہ ناسک میں میٹنگ منعقد کرنے کی اجازت بھی دی تھی۔ خط میں مزید تحریر ہیکہ گواہ استغاثہ نے اے ٹی ایس کے ذریعہ درج کیئے گئے اس کے بیان سے کرنل پروہت کو بچانے کے لئے انحراف کیا ہے اور نہ صرف انحراف کیا ہے بلکہ عدالت کو ایسی کئی باتیں بتائی ہیں جس سے بم دھماکہ سازش میں اس کے ملوث ہونے کا پتہ چلتا ہے ۔ این آئی اے سے درخواست کی گئی کہ دو ہفتوں کے اندر بم دھماکہ متاثرین کی جانب سے ارسال کیئے گئے خط کی روشنی میں فیصلہ لے بصورت دیگر بم دھماکہ متاثرین قانون میں دی گئی مراعات کے مطابق عدالت سے رجوع ہونگے ۔ اسی درمیان ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے خصوصی این آئی عدالت میں ایک درخواست داخل کرکے عدالت سے اجازت طلب کی کہ وہ منحرف گواہ استغاثہ کی گواہی کو انہیں منسٹری آف ڈیفنس اور چیف آف انڈیا آرمی کو بھیجنے کی اجازت دے ۔ ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے عدالت کو بتایا کہ دوران گواہی گواہ استغاثہ نے کرنل پروہت کے وکیل کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات میں ایسی باتیں کہیں ہیں جو اسے نہیں کہنا چاہئے تھا۔ گواہ نے ملٹر ی انٹلیجنس کیسے کام کرتا ہے، ملٹری انٹلیجنس کا دائرہ کتنا ہے اور ابھینو بھارت تنظیم کی جانب سے کیا کیا معلومات کرنل پروہت نے حاصل کی تھی سب بتایا حالانکہ یہ سب باتیں بتانے کے لئے عدالت نے اس پر دباؤ نہیں ڈالا تھا۔ ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے عدالت کو بتایا کہ وہ گواہی کو منسٹری آف ڈیفنس اور چیف آف انڈیا آرمی کو اس لئے بھیجنا چاہتے ہیں تاکہ وہ گواہ (سبکدوش ملٹری افسر) پر کارروائی کرے کیونکہ اس نے کرنل پروہت کو بچانے کے لئے ملک کی سالمیت کو داؤ پر لگا دیا ہے۔
اور انڈین آرمی کے اصول و ضوابط کی پامالی کی ہے ۔ ایڈوکیٹ شاہد ندیم کی جانب سے داخل کردہ عرضداشت کو سماعت کے لیئے قبول کرتے ہوئے خصوصی این آئی اے جج اے کے لاہوٹی نے این آئی اے اور کرنل پروہت کو اپنا جواب داخل کرنے کا حکم دیا، عدالت نے کہاکہ15 جولائی تک جواب داخل کریں۔ واضح رہے کہ گواہ استغاثہ کی گواہی کو عدالت نے کسی کو بھی بتانے سے منع کیا ہے ، عدالت نے تمام فریقین بشمول مداخلت کار (ایڈوکیٹ شاہدندیم) سے حلف نامہ لیا ہے کہ وہ عدالت کی اجازت کے بغیر اس گواہ کی گواہی کسی کو نہیں دیں گے ، عدالت کی جانب سے عائد اس پابندی کی وجہ سے بم دھماکہ متاثرین نے عدالت اجازت طلب کی ہے ۔