عوام کو تکلیف نہ دیں، سڑکوں اور ریلوے ٹریکس کو بلاک نہ کرنے بھارتیہ کسان یونین کے صدر جوگندر سنگھ اوگراہان کی اپیل
چندی گڑھ: سمیکت کسان مورچہ (ایس کے ایم) کی کال پراپنے مطالبات کے حوالے سے چہارشنبہ کوغیر معینہ مدت کے لیے تحریک شروع کرنے کے لئے چندی گڑھ پولیس کی طرف سے مارچ کرنے والے کئی کسان یونینوں کو چندی گڑھ میں داخل ہونے سے روکنے کے لئے چندی گڑھ پولیس نے بھاری حفاظتی انتظامات تعینات کرکے شہر کے تمام داخلی راستوں کو سیل کر دیا ہے ۔ چندی گڑھ پولیس نے پنجاب کے ساتھ متصل 18 انٹری پوائنٹس کو سیل کر دیا ہے اور وہاں 1200 اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے ۔ اس کی وجہ سے موہالی-چندی گڑھ سرحد پر ٹریفک کی آمدورفت سست ہے ۔ ایس کے ایم نے واضح کردیا ہے کہ مورچہ کسی بھی قیمت پر ٹریکٹر ٹرالیوں کے ساتھ چندی گڑھ تک مارچ کرے گا۔ جہاں پولیس انہیں روکے گی وہ ہڑتال پر بیٹھ جائیں گے۔ بھارتیہ کسان یونین (ایکتا-اوگراہان) کے صدر جوگندر سنگھ اوگراہان نے کسانوں سے سڑکوں، شاہراہوں اور ریلوے ٹریک کو بلاک نہ کرنے کی اپیل کی ہے کیونکہ اس سے عوام کو تکلیف ہوگی۔ انہوں نے کسانوں کو مشورہ دیا کہ اگر انہیں آگے بڑھنے سے روکا گیا تو وہ سڑک کے کنارے احتجاجی دھرنا دیں۔ انہوں نے تمام کسان یونینوں سے چندی گڑھ میں ‘پکا مورچہ’ میں شامل ہو کر احتجاج درج کرنے کی اپیل کی، جہاں انتظامیہ نے ابھی تک احتجاج کے لیے جگہ مختص نہیں کی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ پیر کو وزیر اعلی بھگونت مان کی قیادت والی پنجاب حکومت اور ایس کے ایم کے درمیان بات چیت ناکام ہونے کے چند گھنٹوں بعد، اوگراہان سمیت کسان رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، جو منگل کو دن بھر جاری رہے ۔ اس دوران کسان رہنماؤں کو گھروں سے حراست میں لے لیا گیا، جب کہ کچھ کو نظر بند بھی کر دیا گیا۔ کسانوں کے مطالبات پر بات چیت کے لیے بات چیت درمیان میں ہی منقطع ہونے پر کسان رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعلیٰ بغیر کسی اشتعال کے غصے میں میٹنگ سے باہر چلے گئے ۔ میٹنگ کے بعد، ایس کے ایم لیڈروں نے اعلان کیا تھا کہ وہ چندی گڑھ میں بڑے پیمانے پر دھرنا دینے کی اپنی کال کو آگے بڑھائیں گے۔ کسانوں کے احتجاج کے پیش نظر امرتسر کے گولڈن گیٹ پر سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے ۔ کسان لیڈر سرون سنگھ پندھیر نے کہا کہ تقریباً 18 اضلاع میں پروگرام ہوں گے ۔ ہم اکیلے امرتسر میں 21 مقامات پر بھگونت مان کے پتلے جلائیں گے ۔ آج کا پروگرام پنجاب بھر میں سینکڑوں مقامات پر منعقد کیا جائے گا۔ ایس کے ایم کے پنجاب یونین لیڈر کو کسان مزدور مورچہ کی قیادت کے ساتھ حراست میں لیا گیا، اس لیے آج کا پروگرام کسانوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف ہے ۔ یہ پرامن طریقے سے کیا جائے گا۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام گرفتار کسانوں کو رہا کیا جائے ۔
کسان ریاستی حکومت سے چھ فصلوں پر کم از کم امدادی قیمت لاگو کرنے ، قرض معافی کے لیے نئی اسکیم لانے ، گنے کے کاشتکاروں کو سود سمیت بقایا رقم ادا کرنے ، احتجاج کے دوران جانیں گنوانے والے کسانوں کے خاندانوں کو معاوضہ دینے ، سرہند فیڈر کینال پر نصب موٹروں کے بل معاف کرنے نیز حکومت اور کسانوں کے درمیان ہم آہنگی کے لیے ذیلی کمیٹی بنانے سمیت کل 18 مطالبات پورا کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ مسٹر مان نے کسانوں کے ساتھ میٹنگ میں کہا تھا کہ پنجاب کو دھرنا اسٹیٹ بنارکھا ہے ، جو قابل برداشت نہیں ہے ۔ پنجاب پہلے ہی بند کی وجہ سے کافی نقصان اٹھا چکا ہے ۔ مسٹر مان نے کہا، “میں نے کسان رہنماؤں سے پوچھا کہ چندی گڑھ میں احتجاج کرنے کے بارے میں ان کا کیا موقف ہے ، ان کا جواب تھا کہ وہ ضرور احتجاج کریں گے ۔ اس کا مطلب ہے کہ میٹنگ بھی کرنی ہے اور پکا مورچہ بھی لگانا ہے ، لیکن یہ دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے ، اسی لیے میں نے کہہ دیا مورچہ لگالو۔[؟]
انہوں نے کہا کہ میری نرمی کو میری کمزوری نہ سمجھا جائے ۔ حکومت کی جانب سے سخت ایکشن لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئے روز ٹرینیں اور سڑکیں بلاک کرنے کا رویہ درست نہیں۔ کسانوں کے تمام مطالبات مرکز سے متعلق ہیں۔ کسانوں کا کہنا تھا کہ اگر ہم مورچہ کا اعلان نہ کرتے تو حکومت ہمیں میٹنگ کا وقت نہیں دیتی ، جب کہ میں پہلے بھی کسانوں سے میٹنگز کرتا رہا ہوں۔ میں کسان یونین کے لیڈروں سے زیادہ کھیتوں میں جاتا رہا ہوں۔ میرا تعلق کھیتی باڑی سے ہے ۔ میں نے ان کے خوف سے میٹنگ نہیں کی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مختلف کسان یونینوں کے درمیان ‘‘کریڈٹ وار’’ چل رہی ہے ، جو متوازی حکومت چلا کر انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت معاشرے کے مختلف طبقوں سے متعلق مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے ہمیشہ تیار ہے ۔