لکھنؤ، 30 ستمبر (یواین آئی) سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے قومی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے بدھ کو کہا کہ کسان خوشحال ہوگا تو ہی ملک کی معیشت مضبوط ہوگی۔ کسان پورے ملک کا پیٹ بھرتا ہے اور اس کی ترقی سے ہی ملک آگے بڑھے گا۔ ایس پی ریاستی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ کسان کانفرنس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مسٹر یادو نے سابق وزیراعظم چودھری چرن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کسانوں کی آواز اٹھائی اور ان کے مفاد میں کئی اہم فیصلے کیے ۔ انہوں نے کہا کہ چودھری چرن سنگھ نے کسانوں کی لڑائی لڑی اور انہیں آگے بڑھانے کا کام کیا۔ مسٹر یادو نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت میں کسان پریشان ہیں۔ انہیں وقت پر کھاد، بیج، کیڑے مار دوا اور پانی دستیاب نہیں ہورہا ہے ۔ زراعت میں استعمال ہونے والی مشینوں پر بھی جی ایس ٹی عائد کیا گیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ایس پی حکومت بننے پر کسانوں کو کھاد، بیج، پانی، سستی کیڑے مار ادویات اور زرعی مشینری کی بہتر سہولت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے نینو یوریا کے معاملے پر بھی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کسانوں پر اسے خریدنے کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے ۔ سماج وادی پارٹی اس کی مخالفت کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چینی اور پٹرول میں ایتھنول کی آمیزش سے منافع کما رہی ہے ، لیکن سوال یہ ہے کہ اس کا فائدہ کسانوں کو کیوں نہیں مل رہا۔ ایس پی صدر نے کہا کہ سبز رنگ ہریالی اور کسانوں کی خوشحالی کی علامت ہے اور سماج وادی پارٹی کا پرچم سبز اور سرخ رنگ سے بنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سماج وادی پارٹی کسانوں کے مفاد میں کام کرتی رہی ہے ۔ ایس پی حکومت بننے پر کسانوں کو ان کی فصلوں کی مناسب قیمت دلانے کے ساتھ خصوصی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومت میں دالوں، تلہن، گیہوں، دھان، گنے اور آلو سمیت مختلف فصلوں اور دودھ کی پیداوار میں کسانوں کو نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایس پی حکومت بننے پر دودھ کی پیداوار کو فروغ دینے کے لیے بڑے پیمانے پر ڈیری یونٹ قائم کیے جائیں گے ۔ مسٹر یادو نے کہا کہ ایس پی حکومت کے دور میں مظفر نگر میں بجلی کے فیڈر الگ کیے گئے تھے ، جس سے کسانوں کو زراعت کے لیے الگ بجلی دستیاب ہوتی تھی اور آبپاشی کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت نے ایس پی دور حکومت میں شروع کیے گئے بجلی گھروں کو مکمل نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایس پی حکومت بننے پر نئے بجلی گھر قائم کیے جائیں گے اور کسانوں کو سستی بجلی فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے آبپاشی مفت کرنے اور گنے کے کسانوں کو 24 سے 48 گھنٹے میں ادائیگی یقینی بنانے کا بھی وعدہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو ملازمت اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا بھی ایس پی کی ترجیح ہوگی۔ سیلاب سے فصلوں کو ہونے والے نقصان کا ذکر کرتے ہوئے ایس پی صدر نے کہا کہ حال ہی میں دھان، گنے اور دالوں کی فصلوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے ، لیکن حکومت کی جانب سے کسانوں کو متوقع مدد نہیں ملی۔ انہوں نے ریاستی حکومت سے فصلوں کے نقصان کا معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا۔ مسٹر یادو نے ریاست میں سیلاب اور پانی جمع ہونے کی صورتحال کے لیے بھی حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھائے ۔ انہوں نے کہا کہ ندیوں میں گاد جمع ہونے سے ان کی گہرائی کم ہورہی ہے اور پانی کی نکاسی متاثر ہورہی ہے ۔ حکومت کو ندیوں کی باقاعدگی سے ڈیسلٹنگ کرانی چاہیے ۔ انہوں نے لکھنؤ میں پانی جمع ہونے کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ سیلاب روکنے کے لیے پشتے بنائے جاتے ہیں، لیکن ان کے مبینہ غلط ڈیزائن کی وجہ سے شہر میں پانی جمع ہونے کی صورتحال پیدا ہوئی۔ انہوں نے گومتی ریور فرنٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف پانی نہیں بھرا، جبکہ دوسری جانب پانی جمع ہونے کی صورتحال بنی رہی۔ ایس پی صدر نے گورکھپور میں سیلاب اور پانی جمع ہونے کا مسئلہ بھی اٹھایا اور اس کے لیے ریاستی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو سیلاب کے مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنا چاہیے ۔ اس موقع پر مسٹر یادو نے کسان کانفرنس میں شرکت کرنے والے بڑی تعداد میں بزرگ، محنتی اور ایماندار کسانوں کا شکریہ ادا کیا۔